مسیحی لڑکے پر توہینِ مذہب کا مقدمہ

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 11 اکتوبر 2012 ,‭ 13:26 GMT 18:26 PST

پاکستان میں اقلیتیں توہینِ مذہب کے قانون کے غلط استعمال کے خلاف مظاہرے کرتی رہی ہیں

پاکستان کے شہر کراچی میں پولیس نے ایک عیسائی لڑکے کو توہین مذہب کے مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے۔

سولہ سالہ ریان سٹینٹن پر الزام ہے کہ انہوں نے ایس ایم ایس کے ذریعے توہین آمیز پیغامات پھیلائے۔

مقامی پولیس کے ایس پی خواجہ نوید نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار ارمان صابر کو بتایا کہ ریان سٹنٹن کو جمعرات کوگرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی گئی ہے۔

اقلیتی رکن صوبائی اسمبلی سلیم خورشید کھوکھر نے بھی اس گرفتاری کی تصدیق کی ہے۔

توہینِ مذہب کا یہ مبینہ واقعہ گلشنِ اقبال میں واقع سوئی سدرن گیس کمپنی کی سٹاف کالونی میں منگل کو پیش آیا تھا۔

پولیس کے مطابق ریان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ اس نے مذہب کے بارے میں توہین آمیز ٹیکسٹ پیغامات سٹاف کالونی کے رہائشیوں کو بھیجے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ٹیکسٹ پیغامات کی اطلاعات سامنے آنے کے بعد ریان کو علاقے کی مسجد کے پیش امام کے سامنے پیش کیا گیا جہاں انہوں نے کہا کہ یہ ٹیکسٹ پیغام انہیں کسی نے بھیجا تھا اور انہوں نے بغیر پڑھے اسے اپنے چند مسلم دوستوں کو بھیج دیا۔

اس پیشی کے بعد صورتحال کی نزاکت کو بھانپتے ہوئے ریان کی والدہ انہیں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل ہوگئیں۔ پولیس کے مطابق اگر یہ لوگ گھر چھوڑ کر نہ جاتے تو صورتحال مزید خراب ہوسکتی تھی۔

بدھ کو واقعے کی خبر پھیلنے پر اہلِ علاقہ مشتعل ہوگئے اور انہوں نے ریان کے گھر پر حملہ کر دیا۔ وہاں کسی کو بھی نہ پا کر مشتعل افراد نےگھر میں موجود سامان سڑک پر لا کر نذرآتش کردیا۔ اس موقع پر انہوں نے ریان اور ان کی والدہ کے خلاف نعرے بازی بھی کی۔

اس واقعے کے بعد مقامی پولیس نے ریان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور اسی مقدمے کے تحت انہیں جمعرات کو گرفتار کیا گیا ہے۔

گلشنِ اقبال کے ایس پی عاصم قائم خانی نے کہا کہ پولیس نے توہین مذہب کی دفعہ دو سو پچانوے سی کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور یہ مقدمہ ایس ایس جی سی کے چیف مینیجر کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق پولیس یہ بتانے سے گریز کر رہی ہے کہ آیا اس نے ریان کےگھر پر حملہ کرنے اورگھر کا سامان نذر آتش کرنے پر مقدمہ درج کیا ہے یا نہیں اور اس سلسلے میں کوئی گرفتاری بھی عمل میں آئی یا نہیں۔

ادھر صوبائی رکن اسمبلی سلیم خورشید کھوکھر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ رمشا مسیح کے کیس میں کئی باتیں سامنے آ چکی ہیں اور یہ بھی مکان خالی کرانے کی کوشش ہو سکتی ہے۔ ان کے بقول اس واقعہ کی انکوائری ضروری ہے تاکہ معاملے کی تہہ تک پہنچا جا سکے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔