پاکستان میں یومِ دعا پر ملالہ کے سکول میں حاضری کم

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 12 اکتوبر 2012 ,‭ 11:30 GMT 16:30 PST

ایک طالب علم یوم دعا پر ملالہ کے لیے دعا مانگتے ہوئے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے شدت پسندوں کی گولی کا نشانہ بننے والی چودہ برس کی ملالہ یوسفزئی راولپنڈی کے فوجی ہسپتال میں انتہائی نگہداشت کے وراڈ میں زیر علاج ہے جبکہ جمعہ کو ان کی صحتیابی کے لیے ملک بھر میں لوگوں نے یومِ دعا منایا۔

ملک بھر میں تعلیمی اداروں میں ملالہ کی سلامتی اور صحت یابی کے لیے دعائیں مانگیں گئیں۔ مینگور میں خوشحال پبلک سکول میں جہاں ملالہ زیر تعلیم ہیں، ملالہ پر طالبان کے حملے کے بعد پہلا دن تھا لیکن وہاں حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔

غیر ملکی خبررساں اداروں کے مطابق ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاء الدین یوسفزئی کو بھی کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے دھمکیاں موصول ہوئی ہیں۔

راولپنڈی میں وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے ملالہ کی ہسپتال میں عیادت کی۔

وزیراعظم کے ساتھ وفاقی وزراء اور حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کے رہنما بھی شامل تھے جن میں پاکستان مسلم لیگ کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین، متحدہ قومی مومنٹ کے ڈپٹی کنوینر فاروق ستّار اور عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی عدیل بھی شامل تھے۔

وزیر اعظم نے اس موقع پر صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ تمام اتحادی جماعتوں کے ساتھ یہاں آئے ہیں اور ان کے آنے کا مقصد ہے کہ حکومت متحد ہے ان قوتوں کا مقابلہ کرنے میں جو انتہا پسندی کا ایجنڈا مسلط کرنا چاہتی ہیں۔

وزیر اعظم نے کہا کہ ’ملالہ پاکستان کا اصل چہرہ ہے‘ اور انہوں نے مزید کہا کہ حکومت دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دے گی۔

ملالہ کے ساتھ زخمی ہونے والی دوسری طالبہ شازیہ رمضان کو علاج کے لیے پشاور منتقل کر دیا ہے ۔

شازیہ کے گھر والے پریشان اور گبھراِئے ہوئے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شازیہ کے بھائی محمد امین نے حکومت سے شکوہ کیا کہ ان کی بہن کو فوری علاج کے لیے پشاور نہیں لے جایا گیا بلکہ خود گھر والوں کو بھاگ دوڑ کرنی پڑی۔

ان کا کہنا تھا کہ شازیہ کو نہ تو میڈیا نے توجہ دی اور نہ سرکار نے اس طرح سے مداوا کیا جس طرح ملالہ کی مدد کی گئی۔

ان کا مطالبہ تھا کہ شازیہ کے علاج کے لیے مداد فراہم کی جائے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ شازیہ جب صحت یاب ہو جائے تو دوبارہ اسی سکول میں اپنی تعلیم جاری رکھے گی۔

واقعہ میں تیسری ز خمی طالبہ کائنات کو مقامی ہسپتال سے مینگورہ میں ان کے گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔

وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہیں۔

ہمارے نمائندے کے مطابق کائنات کے والد ریاض نے بتایا کہ وہ ملالہ کو ملنے والے عوامی اور سرکاری توجہ پر خوش ہیں لیکن شازیہ اور کائنات کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے وہ بھی تو قوم کی بیٹیاں ہیں۔

پاکستان کی افواج کے ترجمان آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ صحافیوں کو باخبر رکھنے کی زمہ داری ادا کر رہے ہیں۔

کائنات کے والد نے کہا کہ صحت یاب ہونے پر کائنات اپنی تعلیمی سلسلہ جاری رکھیں گی۔

پاکستان کی افواج کے ترجمان آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹروں کے مطابق ملالہ یوسفزئی کی صحت اطمینان بخش ہے۔

جنرل عاصم نے کہا کہ ملالہ ابھی بھی وینٹیلیٹر (مصنوعی تنفس) پر ہیں اور ڈاکٹروں کا ایک پینل ان کی آئندہ چھتیس سے اڑتالیس گھنٹے تک ان کی نگرانی کرتا رہے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ ڈاکٹروں کے پینل میں سویلین اور ملٹری ڈاکٹروں کے علاوہ بیرونِ ملک سے آئے دو ماہرین بھی شامل ہیں۔

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملالہ کی بیرونِ ملک منتقلی کے بارے میں ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ ملالہ کے والدین بھی ان کے ساتھ ہیں تاہم سیکورٹی خدشات کے پیشِ نظر ان کو نامعلوم مقام پر رکھا گیا ہے۔

پاکستان کے مختلف شہروں میں جمعے کے دن مختلف اجتماعات ہوئے جن میں ملالہ کی صحت کے لیے دعائیں مانگی گئیں۔

خیبر پختونخوا

خاص طور پر ملالہ کے شہر مینگورہ اور سوات میں مختلف سکولوں میں قران خوانی کی گئی اور طلبہ اور طالبات نے قران کو پڑہنے کے دور مکمل کیے گئے جن میں ملالہ کے سکول کی طالبات بھی شامل تھیں۔

اسی طرح جمعے کی نماز کے بعد ملالہ اور اس کی ساتھی طالبات کی صحت کے لیے دعائیں مانگیں گئیں۔

سوات قومی جرگہ کے سربراہ مختار یوسفزئی نے اعلان کیا ہے کہ ان کے محاذ کی جانب سے کل مینگورہ بازار میں مظاہرہ کیا جائے گا جس میں حکومت پر دباؤ ڈالا جائے گا کہ وہ ملالہ پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرے۔

پشاور کے مختلف سکولوں خاص طور پر باچہ خان ٹرسٹ کے سکولوں میں ملالہ کی صحت اور سلامتی کے لیے دعائیں مانگیں گئیں اور قرآن خوانی بھی ہوئی۔

اسی طرح دن کے بارہ بجے کر ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی گئی۔

سوات کے ایس پی انویسٹیگیشن محمد ارشاد نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تین افراد کو ملالہ پر حملے کے حوالے سے گرفتار کیا ہے مگر اس بارے میں وہ وضاحت نہیں کر سکتے۔

پنجاب

سکول کے طلبا اسمبلی میں ملالئی کے لیے اجتماعی دعا کرتے ہوئے۔

سول سیکریٹیریٹ میں تمام صوبائی وزراء جمع ہوئے اور انہوں نے بھی ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور دعا مانگی۔

لاہور میں مختلف تقاریب ہوئی ہیں اور پہلے سے منعقد شدہ تقاریب میں رک کر ان کے لیے خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔

لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے جگہ جگہ ملالہ کی تصاویر لگائی ہیں اور اخبارات میں بھی اشتہارات دئے ہیں جن کے اوپر اشعار اور نعرے درج ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ لاہور کی ضلعی حکومت نے مطالبے کیا ہے کہ ملالہ کو فخر پاکستان قرار دیا جائے۔

ملتان میں طالبات نے ایک مظاہرہ کیا جس می طالبات نے پوسٹر اٹھائے ہوئے تھےجن پر لکھا تھا کہ ہم بھی ملالہ ہیں۔

اس کے علاوہ طالبات نے ملالہ کے لیےاجتماعی دعا بھی کی۔

گورنر ہاؤس پنجاب میں بھی ملالہ کے لیے خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا اور وزیرا اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے بھی ملالہ کی سحتیابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ وہ جلدی صحتیاب ہو کر ہمارے درمیان ہوں گیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق اٹک میں نابینا بچوں نے ملالہ کے لیے صحت کی دعائیں کیں اور ریلی نکالی۔

اسی طرح ڈیرہ غازی خان میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی بستی میں بھی خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔

بلوچستان

کوئٹہ میں نماز جمعہ کے بعد ملالہ کی صحت یابی کے لیے خصوصی طور پر دعا مانگی گئی۔

کوئٹہ میں جمعرات کو ملالہ کی حالت بہتر ہونے پر یومِ تشکر منایا گیا تھا۔

آج صوبائی حکومت کی جانب سے سکولوں اور مسجدوں می خصوصی یوم دعا کا اعلان کیا گیا تھا۔

وزیراعلیٰ سیکریٹیریٹ کی جامع مسجد میں جمعہ کی نماز کے بعد ملالہ کے لیے اجتماعی دعا مانگی گئی۔

تمام ضلعی صدر مقامات میں بھی دعائیہ تقاریب منعقد ہوئیں۔

سرکاری اداروں اور دفاتر میں بھی اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے صوبے کی تمام مساجد میں خصوصی دعاؤں کی بھی درخواست کی تھی۔

سندھ

ملالئی کے بچیاں قرآن خوانی کر رہی ہیں۔

سندھ کے تمام شہروں میں ملالہ کے حوالے سے دعائیہ تقاریب ہوئیں۔

اس میں خاص طور پر تعلیمی اداروں کے طلبا اور طالبات نے دعائیں کیں۔

بدین کی جیل میں قیدیوں نے ملالہ کے لیے خاص طور پر اجتماعیہ دعا اور قرآن خوانی کی۔

کراچی میں بھی مختلف سکولوں می دعائیہ تقاریب ہوئیں جیسا کہ لیاری کے لڑکیوں کے ایک سکول میں ججتماعی دعا ہوئی۔

لڑکیوں نے کہا کہ ملالہ ان کی بھی بہن ہے اور وہ اس کے مشن کو آگے بڑھائیں گیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔