مولوی اپنے کوائف جمع کرائیں، ایم کیو ایم

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 12 اکتوبر 2012 ,‭ 17:22 GMT 22:22 PST

متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں مساجد، مدارس اور امام بارگاہوں کے سربراہوں، خطیبوں اور اماموں کے کوائف تنظیمی دفاتر میں جمع کروائیں۔

لندن سے جاری ہونے والے بیان میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے کہا ہے کہ کراچی سمیت ملک بھر میں قائم تنظیمی دفاتر کے کارکنان اور تمام امن پسند شہری اپنے علاقوں میں موجود مساجد اور مدرسوں کے سربراہوں، خطیبوں اور عالموں کے کوائف ایک ہفتے کے اندر ایم کیو ایم کے دفاتر میں جمع کروائیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بعد میں یہ کوائف ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو بھیجے جائیں گے۔ الطاف حسین نے کہا کہ جن مساجد، امام بارگاہوں، مدرسوں کے سربراہ، خطیب، علما، زاکرین اور دیگر حضرات اپنے کوائف دینے سے انکار کریں اُن کے نام حکومت کو ارسال کر دیے جائیں گے تا کہ حکومت خود یہ معلومات حاصل کرے۔ الطاف حسین نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ سب اِس لیے کیا جائے گا کیونکہ اِس میں ملک اور ملک کے عوام کا مفاد ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کوائف تمام اماموں، خطیبوں اور علما سے لیے جائیں گے چاہے اُن کا تعلق کسی بھی مکاتبِ فکر سے ہو۔

ایم کیو ایم کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کے ترجمان مصطفیٰ عزیز آبادی نے بی بی سی اردوس سروس کے پروگرام سیربین میں اس بارے میں واضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ملک شدت پسندی اور انتہاہ پسندی کے ایک عفریت کے شکنجے میں ہے اور پوری قوم کو اس عفریت کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا۔

انھوں نے کہا کہ ایم کیو ایم نے پورے ملک میں اپنے کارکنوں، ہمدردوں اور حمائتیوں سے کہا ہے کہ وہ اس کام میں ایم کیو ایم کی مدد کریں جس سے ان کے خیال میں انتہائی پسند عناصر کی سرکوبی کرنے میں مدد ملی سکتی ہے۔

انھوں نے کہاکہ یہ تمام معلومات اکھٹی کرکے حکومت کو فراہم کی جائے گی اور حکومت کو اپنی حکمت عملی بنانے میں مدد ملے گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔