’ایک ملالہ قربان کردی، باقی قربان نہیں کر سکتا‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 12 اکتوبر 2012 ,‭ 13:55 GMT 18:55 PST

ملالئی یوسف زئی پر حملے کے بعد ان کا سکول دوبارہ کھل گیا ہے لیکن زیادہ طلبات غیر حاضر رہیں۔

مینگورہ کے علاقے شریف آباد میں واقع خوشحال پبلک سکول میں جہاں ملالہ یوسفزئی زیر تعلیم ہے طالبات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ملالہ پر طالبان کے حملے کے بعد جمعہ کو سکول کا پہلا دن تھا لیکن سکول میں بیس سے کم طالبات حاضر ہوئیں۔

سوات میں مقامی صحافی انور شاہ نے بی بی سی اردو سروس کو بتایا کہ طالبات اور ان کے والدین خوف کا شکار ہیں اس لیے سکول میں حاضری نہ ہونے کے برابر ہے۔

سکول کی انتظامیہ نے بتایا کہ طالبات کے والدین گھبرائے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے سکول میں طالبات کی حاضری بہت کم رہی ہے۔ گھبراہٹ کا یہ عالم تھا کہ سکول انتظامیہ نے ٹیلی فون کر کے بچیوں کو سکول بلایا۔

انتظامیہ نے مزید کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ طالبات کو سکول آنے پر آمادہ کریں تا کہ ان کا تعلیمی سلسلہ جاری رہے۔

انور شاہ کے مطابق سکول کے باہر میڈیا کے اہل کار جمع تھے جن سے بات کرتے ہوئے سکول کی پرنسپل نے بتایا کہ ان کے منتظمِ اعلیٰ ضیاالدین یوسفزئی نے جو ملالہ کے والد بھی ہیں بچیوں کو میڈیا سے بات کرنے سے منع کیا ہے اور کہا کہ انھوں نے ایک ملالہ کو قربان کر دیا وہ اور بچیوں کو قربان نہیں کر سکتے۔

سکیورٹی کے لیے سکول کے باہر پولیس کے تین اہلکار تعینات ہیں۔

ملالہ کے ساتھ زخمی ہونے والی دوسری طالبہ شازیہ رمضان کو علاج کے لیے پشاور منتقل کر دیا ہے ۔شازیہ کے گھر والے پریشان اور گبھراِئے ہوئے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے شازیہ کے بھائی محمد امین نے حکومت سے شکوہ کیا کہ ان کی بہن کو فوری علاج کے لیے پشاور نہیں لے جایا گیا بلکہ خود گھر والوں کو بھاگ دوڑ کرنی پڑی۔ان کا کہنا تھا کہ شازیہ کو نہ تو میڈیا نے توجہ دی اور نہ سرکار اس طرح سے مداوا کیا جس طرح ملالہ کو سپورٹ کو کیا گیا۔ان کا مطالبہ تھا کہ شازیہ کے علاج کے لیے مداد فراہم کی جائے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ شازیہ جب صحت یاب ہو جائے تو دوبارہ اسی سکول میں اپنی تعلیم جاری رکھے گی۔

ملا لئی یوسف زئئ اور شازیہ کے گھر پر سکیورٹی کے لیے پولیس تعنات کی گئی ہے۔

واقعہ میں تیسری ز خمی طالبہ کائنات کو مقامی ہسپتال سے مینگورہ میں ان کے گھر منتقل کر دیا گیا ہے۔ وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہیں۔

ہمارے نمائندے کے مطابق کائنات کے والد ریاض نے بتایا کہ وہ ملالہ کو ملنے والے عوامی اور سرکاری توجہ پر خوش ہیں لیکن شازیہ اور کائنات کو کیوں نظر انداز کیا جا رہا ہے وہ بھی تو قوم کی بیٹیاں ہیں۔

کائنات کے والد نے کہا کہ صحت یاب ہونے پر کائنات اپنی تعلیمی سلسلہ جاری رکھے گی۔

دوسری طرف حملے میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے پولیس نے سوات کے مخلتف علاقوں میں کارروائیوں کے دوران کچھ مشتبہ افراد کو ابتدائی تفتیش کے لیے حراست میں لیا ہے۔

سوات قومی جرگہ نے سنیچر کوان طلبات پر حملے میں ملوث ملزمان کو جلداز جلد گرفتار اور سزا دینے کے لیے پر امن احتجاج کا اعلان کیا ہے ۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔