ملالہ یوسفزئی: ’اہم اعضاء ٹھیک ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  ہفتہ 13 اکتوبر 2012 ,‭ 14:09 GMT 19:09 PST

پاکستانی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ملالہ ابھی بھی مصنوعی تنفس پر ہیں۔

پاکستان کی فوج کا کہنا ہے کہ طالبان کے حملے میں شدید زخمی ہونے والی بچی ملالہ یوسفزئی کی صحت بدستور اطمینان بخش ہے اور ان کے اہم اعضاء بالکل ٹھیک ہیں۔

بی بی سی اردو سروس کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کی فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ آئی ایس پی آر کے ترجمان میجر جنرل عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کے دل کی دھڑکن، نبض اور بلڈ پریشر صحیح ہے اور مجموعی طور پر اُن کی حالت تسلی بخش ہے۔

آئی ایس پی آر نے سنیچر کو ایک بیان بھی جاری کیا ہے جس کے مطابق ڈاکٹروں کا ایک بورڈ ان کی صحت کی نگرانی کر رہا ہے۔

ملالہ راولپنڈی میں فوج کے امراضِ قلب کے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرِ علاج ہیں۔

اہم اعضاء میں دل، پھیپھڑے، گردے اور دماغ شمار ہوتے ہیں۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ابھی بھی مصنوعی تنفس یا وینٹیلیٹر پر ہیں۔

کلِک ملالہ کی حالت تسلی بخش ہے، آئی ایس پی آر

کلِک طالبان کے خلاف کارروائی کا یہی وقت ہے، میاں افتخار حسین

ادھر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ان واقعات کے بعد ملالہ یوسفزئی کے والدین کو ایک ذاتی خط لکھا ہے جس میں انھوں نے ’ان کی بہادر بیٹی کی جلد صحت یابی‘ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

سیکرٹری جنرل نے یہ خط اقوام متحدہ میں پاکستان کے نئے سفیر مسعود خان کو جمعے کے روز نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں دیا۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’ملالہ صرف آپ کے ملک (پاکستان) کے لیے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے لیے مثال ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ تعلیم ہر کسی کا بنیادی حق ہے۔

"ملالہ صرف آپ کے ملک (پاکستان) کے لیے ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے لیے مثال ہے۔"

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون

سیکرٹری جنرل بان کی مون نے اس سے پہلے بھی حملے کے فوراً بعد شدید مذمت کرتے ہوئے اس حملے کو ’بزدلانہ‘ قرار دیا تھا۔

دوسری جانب صدر آصف علی زرداری نے حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملالہ پر حملے کے دوران زخمی ہونے والی دو اور طالبات شازیہ اور کائنات کو بھی مفت صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

شازیہ پشاور میں سی ایم ایچ میں زیرِ علاج ہیں اور کائنات کو سوات کے مقامی ہسپتال میں علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔

صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ صدر زرداری نے ان دونوں بچیوں کی صحت کے بارے میں دریافت کیا۔

ترجمان کے مطابق صدر نے کہا کہ دھمکیوں کے باوجود ان بچوں کی علم کی تلاش نے تمام بچیوں کے لیے حصولِ علم کی راہیں منور کر دیں۔

بیان کے مطابق صدر زرداری نے اِن بچیوں کو قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کے حقیقی چہرے کی نمائندگی کرتی ہیں اور انھوں نے دہشت گردوں اور شدت پسندوں کے مظالم کے خلاف قوم کا مجموعی شعور بیدار کیا ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ صدر زرداری نے ملالہ، شازیہ اور کائنات کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔