پولیو کے کیسز میں کمی: بلوچستان شعبہ صحت

آخری وقت اشاعت:  اتوار 14 اکتوبر 2012 ,‭ 19:40 GMT 00:40 PST
پولیو کے قطرے

اس سال پولیو کے صرف تین کیسز کی تصدیق ہوئی ہے: حکام

پاکستان کے صوبے بلوچستان میں صحت کے شعبے کے حکام کا دعوٰی ہے کہ صوبے میں پولیو کے کیسز میں کمی آئی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال اکتوبر تک بلوچستان میں پولیو کے 53 کیسز کی تصدیق ہوئی تھی جبکہ اس سال صرف تین کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

یہ بات بلوچستان کے ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز ڈاکٹر مسعود نوشیروانی نے ہفتے کو کوئٹہ میں صوبے میں 15 اکتوبر سے پولیو کی تدارک کے لیے قطرے پلانے کی تین روزہ نئی مہم کے بارے میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران بتائی۔

حکام کے مطابق 2010 اور 2011 میں بلوچستان میں پولیو کے بہت زیادہ کیسز سامنے آنے کے باعث پولیو کو مانیٹر کرنے والے بین الاقوامی اداروں نے بلوچستان کو ریڈ زون قرار دیا تھا اور یہ دھمکی دی تھی کہ اگر بلوچستان میں پولیو کے تدارک کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے گئے تو دنیا کے دیگر ممالک میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی سفر پر پابندی عائد کی جائے گی۔

اس صورتحال کے باعث بلوچستان میں نہ صرف پولیو کے حوالے سے مانیٹرنگ کے نظام کو مؤثر کر نے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں بلکہ پولیو کے خلاف مہم کو بھی تیز کیا گیا ہے۔

ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز نے بتایا کہ تین روزہ نئی مہم کے دوران بلوچستان میں 22 لاکھ بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے جائیں گے۔

انہوں نے دعوٰی کیا کہ بہتر مہم اور پولیو کی مانیٹرنگ کی وجہ سے بلوچستان میں اس سال اب تک تین کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ گزشتہ سال اس دوران 53 کیسز کی تصدیق ہوچکی تھی۔

اگرچہ ان 3 کیسز کی تصدیق کوئٹہ میں ہوئی ہے لیکن ڈائریکٹر ہیلتھ سروسز کا کہنا ہے کہ کوئٹہ سے پولیو کا وائرس ختم ہوگیا ہے ۔

ان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ میں ہر ماہ نالیوں میں گندے پانی کا معائنہ کیا گیا ہے جس کے نتائج کی روشنی میں اس سال فروری کے مہینے سے پولیو کے وائرس سامنے نہیں آئے ۔ جبکہ اس سے قبل یہ وائرس موجود تھے۔

محکمہ صحت کے حکام بلوچستان میں پولیو کے کیسز میں اضافے کی ایک بڑی وجہ افغانستان سے بڑے پیمانے پر لوگوں کی آمدو رفت کے علاوہ بلوچستان کے بعض علاقوں میں شورش کو قرار دے رہے ہیں جہاں پولیو کے خلاف مہم کی راہ میں رکاوٹیں آرہی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔