ملالہ: حالت مستحکم، کچھ دیر وینٹیلیٹر کے بغیر سانس لی

آخری وقت اشاعت:  پير 15 اکتوبر 2012 ,‭ 22:42 GMT 03:42 PST

پاکستان کی فوج کے ترجمان میجر جنرل عاصم سلیم باجوہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کی حالت مستحکم ہے اور اس میں بتدریج اطمینان بخش بہتری ہورہی ہے۔

اتوار کی شام کو جاری ہونے والے بیان میں انھوں نے کہا کہ آج پہلی بار تھوڑی دیر کے لیے آزمائشی طور پر ملالہ سے وینٹیلیٹر یا مصنوعی تنفس ہٹایا گیا تھا اور یہ تجربہ کامیاب رہا۔

انھوں نے کہا کہ بعد میں انھیں دوبارہ وینٹیلیڑ پر رکھا گیا تا کہ انھیں سانس لینے میں تکلیف نہ ہو۔ علاج کے لیے بیرون ملک بھیجنے کے امکانات پر ابھی بھی غور کیا جا رہا ہے۔

فوج کے ترجمان کے مطابق ہنگامی منصوبے کے تحت پاکستان نے متحدہ عرب امارات کی حکومت سے ایک خصوصی آلات والی ائیر ایمبولینس کا انتظام کر رکھا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹرز کے بورڈ نے ملالہ کو علاج کے لیے باہر بھیجنے کا فیصلہ کیا تو ایسی صورت میں اس ایمبولینس کو استعمال کیا جائے گا۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ملالہ کی صحت یابی کی سست رفتاری میں فکر کی بات نہیں کیونکہ اس قسم کی چوٹ میں بحالی کا عمل سست ہی ہوتا ہے۔

کلِک ملالہ کی حالت تسلی بخش ہے، آئی ایس پی آر

کلِک طالبان کے خلاف کارروائی کا یہی وقت ہے، میاں افتخار حسین

ملالہ راولپنڈی میں فوج کے امراضِ قلب کے ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں زیرِ علاج ہیں۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ڈاکٹر مسلسل ملالہ کی حالت کا جائزہ لے رہے ہیں اور اتوار کو کچھ دیر کے لیے انہیں مصنوعی نظامِ تنفس (وینٹی لیٹر) سے ہٹایا گیا تاہم تھکن سے بچاؤ کے لیے دوبارہ انہیں اس نظام پر منتقل کر دیا گیا۔

اس سے قبل اتوار کی صبح فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ ملالہ کو علاج کے لیے بیرونِ ملک منتقل کرنے کا فیصلہ ابھی نہیں کیا گیا اور دبئی سے ایئر ایمبولنس کی اسلام آباد آمد منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔

دوسری جانب متحدہ عرب امارات میں پاکستان کے سفیر جمیل احمد خان کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسفزئی کا بیرون ملک علاج کرانے کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کی تفتیش پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے اپنے ہاتھ میں لے لی ہے اور اس ضمن میں مقامی پولیس کا کردار محض کسی جگہ چھاپہ مارنے تک محدود رہ گیا ہے۔

مقامی پولیس نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کے الزام میں درجنوں مشکوک افراد کو حراست میں لیا تھا تاہم اُنہیں یا تو شخصی ضمانتوں پر رہا کر دیا گیا یا مقامی عدالتوں نے عدم ثبوت کی بنا پر چھوڑ دیا۔

پولیس کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ نو اکتوبر کو ملالہ یوسف زئی پر ہونے والے حملے کے ایک روز بعد ہی سکیورٹی اداروں نے ملالہ کو سکول لے جانے والی پک اپ کے ڈرائیور کے علاوہ سکول کے چوکیدار اور ایک اور ملازم کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کردیا ہے۔

ذرائع کے مطابق دو روز قبل سورج غروب ہونے کے بعد ان افراد کو دوبارہ جائے حادثہ پر لے جایا گیا اور معلومات حاصل کرنے کے لیے اس حملے کی ریہرسل کی گئی جس کے بعد اُنہیں دوبارہ نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔

ذرائع کے مطابق زیرِ حراست افراد کی مدد سے مبینہ حملہ آوروں کے خاکے بنا کر علاقے میں موجود سکیورٹی اداروں کے خفیہ نیٹ ورک کے حوالے کر دیے ہیں تاہم یہ خاکے مقامی پولیس کو نہیں دیے گئے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے ان واقعات کے بعد ملالہ یوسفزئی کے والدین کو ایک ذاتی خط بھی لکھا جس میں انھوں نے ’ان کی بہادر بیٹی کی جلد صحت یابی‘ کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

سیکرٹری جنرل نے یہ خط اقوام متحدہ میں پاکستان کے نئے سفیر مسعود خان کو جمعہ کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں دیا۔

صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے بھی حکام کو ہدایت کی ہے کہ ملالہ پر حملے کے دوران زخمی ہونے والی دو اور طالبات شازیہ اور کائنات کو بھی مفت صحت کی سہولیات فراہم کی جائیں۔

شازیہ پشاور میں سی ایم ایچ میں زیرِ علاج ہیں اور کائنات کو سوات کے مقامی ہسپتال میں علاج کے بعد گھر بھیج دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔