رقوم کی تقسیم: ’انفردی عمل یا ادارے بھی ملوث‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 16 اکتوبر 2012 ,‭ 11:48 GMT 16:48 PST

عدالت کو دیکھنا ہے کہ سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم افراد کا ذاتی فعل تھا یا اس میں ادارے ملوث تھے: چیف جسٹس

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے ریٹائرڈ ایئر چیف اصغر خان کے مقدمے کی سماعت کے دوران کہا ہے کہ بادی النظر میں ایوان صدر، بری فوج کے سربراہ اور آئی ایس ائی سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے معاملے میں ملوث رہے ہیں۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کو یہ دیکھنا ہے کہ یہ ان افراد کا ذاتی فعل تھا یا اس میں ادارے ملوث تھے۔

عدالت کا کہنا تھا کہ ایوان صدر، آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے دفاتر بہت اہم ہیں اور عدالت اس ضمن میں ایوان صدر میں سیاسی سیل کے بارے میں جواب کا انتظار کر رہی ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ جواب نفی میں آنے کی صورت میں اس معاملے کے ایک اور اہم کردار اجلال حیدر زیدی کو نوٹس دینے پر غور کریں گے۔

یاد رہے کہ ایوان صدر کے سیکرٹری نے عدالت سے اس ضمن میں دو روز کی مہلت مانگی تھی جس میں وہ ایوان صدر میں سیاسی سیل کی موجودگی کے بارے میں عدالت کو اگاہ کریں گے۔ اس سے پہلے سیکرٹری دفاع نے عدالت میں یہ لکھ کر دیا ہے کہ آئی ایس آئی میں کوئی سیاسی سیل موجود نہیں ہے۔

درخواست گُزار کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹاریرڈ اسد درانی نے اُن کے موکل کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اُنہوں نے اعلی قیادت کے کہنے پر سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کیں۔

اُنہوں نے کہا کہ سیاست دانوں میں سات کروڑ روپے تقسیم کیے گیے اور اس ضمن میں ملٹری انٹیلیجنس یعنی ایم آئی کے اکاؤنٹ استعمال کیےگئے جبکہ باقی سات کروڑ روپے کی رقم اُسی اکاؤنٹ میں موجود رہی۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اکاؤنٹ استعمال ہونے کا مقصد یہ نہیں ہے کہ اس میں پوری ایم آئی ملوث ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایسے بیانات سامنے آ رہے ہیں کہ سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے معاملے میں ایوان صدر، آرمی چیف اور آئی ایس آئی کے سربراہ ملوث رہے ہیں جو کہ ایک افسوسناک امر ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ فوج میں آرمی ایکٹ موجود ہے اور نیشنل لاجسٹک سیل میں بدعنوانی کا معاملہ چلا تو تین ریٹارئرڈ جرنیلوں کو نوکری پر بحال کرکے اُن کا کورٹ مارشل کیا جا رہا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ اداروں کی مضبوطی کے لیے بعص اوقات مشکل فیصلے کرنا پڑتے ہیں۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ گُزشتہ کئی عرصے سے یہ معاملہ چلتا رہا ہے لیکن پیپلز پارٹی نے بھی اس معاملے کی طرف توجہ نہیں دی جبکہ اسلامی جمہوری اتحاد اُن کی جماعت کے خلاف ہی بنا تھا۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ تمام ادارے اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے تو کبھی بھی آئی جے آئی نہ بنتی۔ اُنہوں نے کہا کہ اب جو بھی ہوگا وہ آئین کے مطابق ہوگا اور عدالت چاہتی ہے کہ جمہوری نظام چلتا رہے کیونکہ یہی قومی مفاد میں ہے۔

سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کے وکیل اکرم شیخ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پہلے اسد درانی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ اُنہوں نے سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم ایوان صدر کے حکم پر دی تھی لیکن اب اُن کا یہ موقف ہے کہ اُنہوں نے یہ رقم مرزا اسلم بیگ کے حکم پر دی تھی۔

اُنہوں نے عدالت سے سابق وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کے عدالت میں دیے گئے ان کیمرہ بیان کو منظر عام پر لانے کا مطالبہ کیا جسے عدالت نے مسترد کردیا۔ تین رکنی بینچ نے اس درخواست کی سماعت سترہ اکتوبر تک کے لیے ملتوی کر دی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔