ملالہ مضبوط اعصاب کی مالک ہے: ڈاکٹر

آخری وقت اشاعت:  بدھ 17 اکتوبر 2012 ,‭ 19:12 GMT 00:12 PST

ملالہ کی علاج کے لیے روانگی

ملالہ کو راولپنڈي کے فوجي ہسپتال ميں انتہائي نگہداشت کے وارڈ ميں رکھا گيا تھا جہاں سے انہيں پیر کو برطانيہ لايا گيا ہے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کے میڈیکل ڈائریکٹر ڈاکٹر ڈیو روسر نے کہا ہے کہ ہسپتال کے ڈاکٹر ملالہ یوسفزئی کی ’صدمے سے بحالی اور طاقت‘ سے بہت متاثر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملالہ کی حالت میں کچھ بہتری دیکھی گئی ہے لیکن صحت یابی میں ابھی وقت لگے گا۔

چودہ سالہ ملالہ یوسفزئی کو طالبان کی طرف سے بھیجے گئے ایک بندوق بردار نے سر میں گولی مار کر زخمی کر دیا تھا۔ ان کے علاوہ سکول کی وین میں موجود دو اور لڑکیوں کو گولیاں لگی تھیں جن کا علاج پاکستان میں ہو رہا ہے۔

کلِک ایک ہی ملالہ کیوں؟

کلِک اہم اعضاء ٹھیک ہیں: آئی ایس پی آر

کلِک ملالہ کی ڈائری

منگل کو ہسپتال کے حکام نے بتایا ہے کہ ملالہ کے لیے دعائیہ پیغامات اور ان کی مالی مدد کی پیشکشوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ این ایچ ایس ٹرسٹ کی ویب سائٹ پر ملالہ کے خیرخواہوں کے پیغامات کے لیے ایک میسیج بورڈ بنا دیا گیا ہے۔

کوئین الزبتھ ہسپتال برمنگھم کے خیراتی ادارے نے ہسپتال کے مرکزی فنڈ سے جڑا ایک اکاؤنٹ بھی قائم کیا ہے جس میں ملالہ کے علاج میں حصہ بٹانے کے خواہشمند افراد رقم بھیج سکتے ہیں۔

ہسپتال کے حکام کا کہنا ہے کہ اب ملالہ کی صحت کے بارے میں مزید کوئی پریس کانفرنس یا انٹرویو نہیں دیے جائیں گے اور ان کی صحت کے بارے میں صورتحال روزانہ دن میں دو بار صبح آٹھ اور شام پانچ بجے ای میل کی صورت میں جاری کی جائیں گی۔

ادھر پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے ملالہ پر قاتلانہ حملے کو ’مہذب لوگوں‘ پر حملہ قرار دیا ہے۔

منگل کو اپنے آذربائیجان کے دورے کے دوران انہوں نے کہا کہ ’طالبان کی طرف سے چودہ سالہ لڑکی پر حملہ، جو گیارہ سال کی عمر سے لڑکیوں کی تعلیم کے لیے کوشاں ہیں، دراصل پاکستان کی سب لڑکیوں پر حملہ ہے، سب مہذب لوگوں پر حملہ ہے۔‘

برمنگھم میں ہسپتال کے گرد سکیورٹی کا نظام بہت سخت ہے اور پولیس ہر طرح کی صورتِ حال کے لیے تیار ہے۔ پیر کی شب کئی افراد ملالہ کو دیکھنے آئے لیکن پولیس نے انہیں واپس بھیج دیا۔

ملالہ یوسفزئی کو مزید علاج کے لیے پیر کو پاکستان سے برطانیہ منتقل کیا گیا ہے اور انہیں برطانوی شہر برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال لایا گیا جو جنگ میں زخمی ہونے والے فوجیوں کے علاج کے لیے شہرت رکھتا ہے۔

برطانیہ پہنچنے کے بعد ملالہ کے معالجین کا کہنا ہے کہ وہ ان کے صحت یاب ہونے کے بارے میں پرامید ہیں۔

ہسپتال کے باہر بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے برطانیہ میں پاکستان کے ہائی کمشنر واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ ’ملالہ بحفاظت پہنچ چکی ہیں اور وہ بہترین ہاتھوں میں ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ملالہ کی دیکھ بھال ہسپتال کی اولین ترجیح ہے۔

برمنگھم کا کوئین الیزبتھ ہسپتال

کوئین الیزبتھ ہسپتال کا انتہائی نگہداشت کا کمرہ جہاں بم اور گولیاں لگنے سے زخمی ہونے والوں کو رکھا جاتا ہے

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ خود تو ملالہ سے نہیں ملے تاہم ڈاکٹروں نے انہیں مطلع کیا ہے کہ ملالہ ’ریسپانس‘ دے رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم سب ملالہ کے ساتھ ہیں اور اس کی جلد صحت یابی کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں اور دعاگو ہیں‘۔

پاکستانی ہائی کمشنر نے کہا کہ وہ ملالہ کے علاج کے سلسلے میں برطانوی حکومت خصوصاً وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ کے شکر گزار ہیں جنہوں نے بھرپور مدد کی۔

ڈاکٹروں سے ملاقات کے بعد واجد شمس الحسن نے ایک بیان بھی جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹروں کے مطابق ملالہ کی حالت تسلی بخش ہے اور کئی ماہر ڈاکٹر ان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بیان کے مطابق ڈاکٹروں کی ٹیم نیورو سرجری اور ٹراما تھراپی کے شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین پر مشتمل ہے۔

دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اﷲ احسان کے سر کی قیمت دس لاکھ ڈالر مقرر کی ہے۔

سی این این کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے ملا فضل اﷲ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے جو سوات آپریشن کے دوران افغانستان فرار ہو گئے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملالہ پر حملے کی منصوبہ بندی سرحد پار سے کی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اس سے قبل رحمان ملک کہہ چکے ہیں کہ حملے میں ملوث گروہ کی شناخت ہو چکی ہے اور ان کو جلد پکڑ لیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔