’طالبان ترجمان کے سر کی قیمت دس لاکھ ڈالر‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 16 اکتوبر 2012 ,‭ 08:10 GMT 13:10 PST

پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے ملالہ یوسف زئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے والے تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اﷲ احسان کے سر کی قیمت دس لاکھ ڈالر مقرر کی ہے۔

سی این این کے ساتھ انٹرویو میں انہوں نے ملا فضل اﷲ کو اس حملے کا ذمہ دار قرار دیا ہے جو سوات آپریشن کے دوران افغانستان فرار ہو گئے تھے۔

انہوں نے انٹرویو میں کہا ’ہماری سکیورٹی فورسز اور انٹیلیجنس ایجنسیاں اس حملے میں ملوث افراد کی تلاش کر رہی ہیں۔ میرے پاس کچھ نام ہیں جو کہ میں بتانا نہیں چاہتا کیونکہ اس سے ہماری تفتیش پر اثر پڑے گا لیکن میں پاکستانی عوام اور پوری دنیا کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم ان کو عنقریب گرفتار کر لیں گے۔‘

وفاقی وزیر نے کہا کہ ملالہ یوسف زئی پر حملے کا منصوبہ افغانستان میں تیار کیا گیا تھا۔

انہوں نے سی این این کو بتایا کہ ’چار افراد وہاں (افغانستان) سے آئے تھے۔۔۔ ایک شخص کی نشاندہی ہو گئی ہے اور اس کے کچھ ساتھی گرفتار ہوئے ہیں۔ ایک شخص کی منگیتر کو حراست میں لیا گیا ہے۔‘

واضح رہے کہ دس اکتوبر کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ اس قسم کے واقعات کی ذمہ داری حکیم اللہ محسود کیوں نہیں لیتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی شخص جیسے کہ احسان اللہ احسان اپنے آپ کو ترجمان ظاہر کر کے ذمہ داری قبول کر لیتا ہے۔

یاد رہے کہ دس اکتوبر کو صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیرِ اطلاعات میاں افتخار حسین نے ملالہ یوسفزئی پر حملہ کرنے والے ملزمان کی گرفتاری میں مدد دینے والے افراد کے لیے ایک کروڑ روپے انعام کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔