’جرنیلوں کا سیاست میں ملوث ہونا حلف کی خلاف ورزی ہے‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 17 اکتوبر 2012 ,‭ 11:13 GMT 16:13 PST

اس سے پہلے سیکرٹری دفاع نے عدالت میں یہ لکھ کر دیا ہے کہ آئی ایس آئی میں کوئی سیاسی سیل موجود نہیں

سپریم کورٹ میں ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان کے مقدمے کی سماعت کے دوران عدالت نے کہا ہے کہ اگر اُس وقت کے آرمی چیف اس معاملے کا ادراک کر لیتے تو اکتوبر سنہ اُنیس سو ننانوے اور تین نومبر سنہ دو ہزار سات جیسے واقعات پیش نہ آتے۔

بدھ کو سپریم کورٹ میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پاکستان کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کی طرف سے نوے کی دہائی میں سیاست دانوں میں مبینہ طور پر رقوم کی تقسیم اور اسلامی جمہوری اتحاد کی تشکیل سے متعلق دائر درخواست کی سماعت کی۔

عدالتِ عظمیٰ کا کہنا ہے کہ جرنیلوں کا سیاست میں ملوث ہونا خود اُن کے حلف کی خلاف ورزی ہے۔

بینچ میں شامل جسٹس خلجی عارف حسین کا کہنا تھا کہ اس معاملے میں اُس وقت کے آرمی چیف جنرل ریٹارئرڈ مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کا ذاتی فعل تھا جبکہ اس میں فوج بحثیت ادارہ ملوث نہیں ہے۔

سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چودھری نے کہا کہ صدر وفاق کی علامت ہے اور ان کو کسی سیاسی جماعت کی حمایت نہیں کرنی چاہیے۔

اس سے قبل سیکرٹری ایوان صدر آصف حیات نے عدالت میں اپنا جواب جمع کرایا۔

اس جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ایوان صدر میں ستمبر دو ہزار آٹھ سے کوئی سیاسی سیل کام نہیں کر رہا ہے۔

اُنہوں نے کہا کہ سنہ نوے کی دہائی میں ایوان صدر میں انتخابات کو مانیٹر کرنے کے لیے سیل موجود تھا لیکن اس کی تفصیلات اور فائلیں ملٹری سیکرٹری کے پاس ہیں جو ان دنوں صدر کے ہمراہ بیرون ملک کے دورے پر ہیں۔

آصف حیات نے کہا کہ ملٹری سیکرٹری کے واپس آنے پر ان فائلوں کا مطالعہ کر کے ہی کچھ کہہ سکیں گے۔

اس پر بینچ نے کہا کہ ’اس بیان کے بعد تجسس بڑھ گیا ہے کہ اگر سیاسی سیل نہیں تو کیا کوئی اور سیل کام کر رہا ہے‘۔

اس پر سیکرٹری ایوان صدر نے جواب دیا کہ انہوں نے ’ایسا نہیں کہا‘۔

ایوان صدر میں سیاسی سیل تھا

عدالت میں سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کا بیان حلفی پڑھ کر سُنایا گیا جس میں اُنہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سابق صدر غلام اسحاق خان کے دور میں ایوان صدر میں سیاسی سیل موجود تھا جہاں سے سیاسی سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جاتا تھا۔

یاد رہے کہ ایوان صدر کے سیکرٹری نے عدالت سے اس ضمن میں دو روز کی مہلت مانگی تھی جس میں وہ ایوان صدر میں سیاسی سیل کی موجودگی کے بارے میں عدالت کو آگاہ کریں گے۔

اس سے پہلے سیکرٹری دفاع نے عدالت میں یہ لکھ کر دیا ہے کہ آئی ایس آئی میں کوئی سیاسی سیل موجود نہیں ہے۔

عدالت میں سابق آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کا بیان حلفی پڑھ کر سُنایا گیا جس میں اُنہوں نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ سابق صدر غلام اسحاق خان کے دور میں ایوان صدر میں سیاسی سیل موجود تھا جہاں سے سیاسی سرگرمیوں کو مانیٹر کیا جاتا تھا۔

اسلم بیگ کے وکیل اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اُن کے موکل اس بات کے حامی ہیں کہ سیاست میں فوج کی مداخلت نہیں ہونی چاہیے جس پر بینچ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ’مرزا اسلم بیگ کو بحثیت آرمی چیف سیاسی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے تھی‘۔

عدالت نے چودہ کروڑ روپے میں سے سات کروڑ روپے مبینہ طور پر سیاست دانوں میں تقسیم ہونے کے بعد باقی ماندہ رقم سے متعلق سیکرٹری دفاع سے تفصیلی جواب طلب کر لیا ہے۔

اس معاملے کے اہم کردار بریگیڈئیر ریٹائرڈ حامد سعید عدالت میں پیش نہیں ہوئے تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ وہ اٹھارہ اکتوبر کو عدالت میں پیش ہوں گے۔

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی نے سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے کہا تھا کہ سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم حامد سعید کے ذریعے تقسیم کی گئی تھی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔