خفیہ اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 18 اکتوبر 2012 ,‭ 08:02 GMT 13:02 PST

سپریم کورٹ میں ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان کے مقدمے کی سماعت کے دوران وزارت دفاع نے خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے اکاؤنٹ سے متعلق جواب عدالت میں جمع کرا دیا۔

تاہم عدالت نے کہا کہ ان میں وہ تفصیلات موجود نہیں ہیں جو طلب کی گئی تھیں۔

جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی جانب سے نوے کی دہائی میں سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے معاملے سے متعلق ائیرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے مقدمے کی سماعت کی۔

یاد رہے کہ بدھ کو عدالت نے چودہ کروڑ روپے میں سے سات کروڑ روپے مبینہ طور پر سیاست دانوں میں تقسیم ہونے کے بعد باقی ماندہ رقم سے متعلق سیکرٹری دفاع سے تفصیلی جواب طلب کر لیا تھا۔

سماعت کے دوران وزارت دفاع کے نمائندے کمانڈر شہباز نے باقی ماندہ سات کروڑ روپے سے متعلق جواب عدالت میں جمع کروادیا ہےجس پر عدالت نے عدم اطمنان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ تفصیلات نہیں بتائی گئیں جس کے بارے میں پوچھا گیا تھا۔

بینچ میں موجود جسٹس جواد ایس خواجہ نے وزارت دفاع کے نمائندے سے اس اکاونٹ کی تفصیلات پیش کرنے کو کہا۔ اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ان تفصیلات کو عام نہیں کیا جا سکتا جس پر چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا کہنا تھا کہ ان تفصیلات کے بارے میں آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی نے کہا تھا کہ سات کروڑ روپے کی رقم سیاست دانوں میں تقسیم کی گئی جبکہ باقی ماندہ رقم اُس اکاونٹ میں تھی جو آئی ایس آئی کی زیر نگرانی تھے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جن کو آپ خفیہ رکھنے کا کہہ رہے ہیں وہ تفصیلات پہلے ہی سے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا اس میں وہ تفصیلات نہیں ہیں جو عدالت نے طلب کی تھیں۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اس اکاؤنٹ کی بینک سٹیٹمنٹ لائیں تو سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔

حامد سعید کی استدعا

حامد سعید نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے تحریری بیان کے پیراگراف ایک سے آٹھ کو خفیہ رکھے جائے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ جو پیراگراف خفیہ رکھنا چاہتے ہیں وہ علیحدہ دیں جس پر حامد سعید نے کہا کہ ایسا کرنے سے سپریم کورٹ کو میرا بیان سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اس پر سپریم کورٹ نے حامد سعید کے تحریری بیان کے پیراگراف ایک سے آٹھ کو خفیہ رکھنے کا حکم دیا۔

اس معاملے کے اہم کردار ملٹری انٹیلیجنس کے سابق افسر بریگیڈئیر ریٹائرڈ حامد سعید بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنا تحریری بیان جمع کرایا۔

یاد رہے کہ حامد سعید بدھ کو عدالت میں پیش نہیں ہوئے تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ وہ اٹھارہ اکتوبر یعنی جمعرات کو عدالت میں پیش ہوں گے۔

حامد سعید نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے تحریری بیان کے پیراگراف ایک سے آٹھ کو خفیہ رکھے جائے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ جو پیراگراف خفیہ رکھنا چاہتے ہیں وہ علیحدہ دیں جس پر حامد سعید نے کہا کہ ایسا کرنے سے سپریم کورٹ کو میرا بیان سمجھ میں نہیں آئے گا۔

اس پر سپریم کورٹ نے حامد سعید کے تحریری بیان کے پیراگراف ایک سے آٹھ کو خفیہ رکھنے کا حکم دیا۔

حامد سعید کے بیان جمع کرانے پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ 1990 کے انتخابات میں ان کو کوئی ٹاسک دیا گیا تھا۔

"برگیڈئیر ریٹائرڈ حامد سعید نے کہا کہ اُنہوں نے اس عرصے کے دوران صوبہ سندھ کے سیاست دانوں میں ایک کروڑ نوے لاکھ روپے تقسیم کیے تھے جبکہ باقی رقم اُنہوں نے جی ایچ کیو کو بھجوا دی تھی۔ اُنہوں نے اُن سیاست دانوں کے نام نہیں بتائے جنہیں اُن کے بقول رقم دی گئی تھی۔ "

شہزاد ملک

بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

سابق ملٹری انٹیلجنس کے افسر نے کہا کہ ان کو جولائی 1990 میں کراچی میں تعینات کیا گیا اور وہ کراچی میں سولہ ماہ تک تعینات رہے۔

اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات سے پہلے کراچی میں تعینات کر کے الیکشن کے بعد واپس بلایا گیا۔

ہمارے نامہ نگار نے بتایا کہ بری فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کو بتایا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت نے سنہ 1989 میں اُن کے موکل کو تمغہ جمہوریت دی تھا جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اُنہوں نے آئین کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کرکے کوئی احسان نہیں کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ جرنیل بھی ججز اور ارکان پارلیمنٹ کی طرح آئین کی پاسداری کرنے کے پابند ہیں۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اُس وقت کے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کو اُس وقت کے صدر کو دو ٹوک الفاظ میں کہنا چاہیے تھا کہ وہ سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے معاملے میں شامل نہیں ہوں گے۔

بری فوج کے سابق سربراہ نے عدالت سے استدعا کی کہ مستقبل میں ایسے معاملات سے بچنے کے لیے آئی ایس آئی کو ملک کے چیف ایگزیکٹیو کے ماتحت کرنے کا نوٹیفکیشن معطل کرکے اُسے فوجی کمانڈ کے ماتحت کیا جائے اور اس ادارے میں اصلاحات کا عمل شروع کروایا جائے۔

صدر آصف علی زرداری کے ملٹری سیکرٹری برگیڈئیر عامر کی طرف سے ایک بیان سپریم کورٹ میں جمع کروایا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سنہ نوے کی دہائی میں ایوان صدر میں سیاسی سیل کی موجودگی سے متعلق کوئی فائل نہیں ملی۔ اس درخواست کی سماعت اُنیس اکتوبر تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔