خفیہ اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 18 اکتوبر 2012 ,‭ 08:05 GMT 13:05 PST

سپریم کورٹ میں ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان کے مقدمے کی سماعت کے دوران وزارت دفاع نے خفیہ ایجنسی انٹر سروسز انٹیلیجنس یعنی آئی ایس آئی کے اکاؤنٹ سے متعلق تفصیلات عدالت میں پیش کر دیں۔

تاہم عدالت نے کہا کہ ان میں وہ تفصیلات موجود نہیں ہیں جو طلب کی گئی تھیں۔

جمعرات کو چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی جانب سے نوے کی دہائی میں سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے معاملے سے متعلق ائیرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کے مقدمے کی سماعت کی۔

یاد رہے کہ بدھ کو عدالت نے چودہ کروڑ روپے میں سے سات کروڑ روپے مبینہ طور پر سیاست دانوں میں تقسیم ہونے کے بعد باقی ماندہ رقم سے متعلق سیکرٹری دفاع سے تفصیلی جواب طلب کر لیا تھا۔

سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کے مطابق وزارت دفاع کی جانب سے اکاؤنٹ کی تفصیلات جمع کرانے پر اٹارنی جنرل نے استدعا کی کہ یہ خفیہ معلومات ہیں اور ان کو پبلک نہ کیا جائے۔

اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جن کو آپ خفیہ رکھنے کا کہہ رہے ہیں وہ تفصیلات پہلے ہی سے ریکارڈ پر موجود ہیں۔ چیف جسٹس نے مزید کہا اس میں وہ تفصیلات نہیں ہیں جو عدالت نے طلب کی تھیں۔

بینچ میں شامل جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اس اکاؤنٹ کی بینک سٹیٹمنٹ لائیں تو سب کچھ معلوم ہو جائے گا۔

حامد سعید کی استدعا

حامد سعید نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے تحریری بیان کے پیراگراف ایک سے آٹھ کو خفیہ رکھے جائے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ جو پیراگراف خفیہ رکھنا چاہتے ہیں وہ علیحدہ دیں جس پر حامد سعید نے کہا کہ ایسا کرنے سے سپریم کورٹ کو میرا بیان سمجھ میں نہیں آئے گا۔ اس پر سپریم کورٹ نے حامد سعید کے تحریری بیان کے پیراگراف ایک سے آٹھ کو خفیہ رکھنے کا حکم دیا۔

اس معاملے کے اہم کردار ملٹری انٹیلیجنس کے سابق افسر بریگیڈئیر ریٹائرڈ حامد سعید بھی عدالت میں پیش ہوئے اور اپنا تحریری بیان جمع کرایا۔

یاد رہے کہ حامد سعید بدھ کو عدالت میں پیش نہیں ہوئے تاہم سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا ہے کہ وہ اٹھارہ اکتوبر یعنی جمعرات کو عدالت میں پیش ہوں گے۔

حامد سعید نے عدالت سے استدعا کی کہ ان کے تحریری بیان کے پیراگراف ایک سے آٹھ کو خفیہ رکھے جائے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ وہ جو پیراگراف خفیہ رکھنا چاہتے ہیں وہ علیحدہ دیں جس پر حامد سعید نے کہا کہ ایسا کرنے سے سپریم کورٹ کو میرا بیان سمجھ میں نہیں آئے گا۔

اس پر سپریم کورٹ نے حامد سعید کے تحریری بیان کے پیراگراف ایک سے آٹھ کو خفیہ رکھنے کا حکم دیا۔

حامد سعید کے بیان جمع کرانے پر چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ 1990 کے انتخابات میں ان کو کوئی ٹاسک دیا گیا تھا۔

سابق ملٹری انٹیلجنس کے افسر نے کہا کہ ان کو جولائی 1990 میں کراچی میں تعینات کیا گیا اور وہ کراچی میں سولہ ماہ تک تعینات رہے۔

اس پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انتخابات سے پہلے کراچی میں تعینات کر کے الیکشن کے بعد واپس بلایا گیا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔