طالبان کی دھمکی سے پاکستانی میڈیا پریشان

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 18 اکتوبر 2012 ,‭ 08:00 GMT 13:00 PST

اے پی این ایس نے کہا کہ طالبان لوگوں کی آواز کو زبردستی دبانا چاہتے ہیں

پاکستانی میڈیا نے ملالہ یوسفزئی پر ہونے والے حملے کے بعد طالبان کی طرف سے صحافیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیوں پر خطرے کا اظہار کیا ہے۔

دریں اثناء بی بی سی نے کہا ہے کہ طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی چودہ سالہ بچی ملالہ کی کوریج کے سلسلے میں ذرائع ابلاغ کے کئی اداروں کو ملنے والی دھمکیوں کے بعد بی بی سی نے پاکستان میں اپنے عملے کے تحفظ اور اپنے آپریشنز کے لیے مناسب اقدامات کیے ہیں۔

آل پاکستان نیوزپیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) نے کہا ہے کہ میڈیا کو طالبان کی دھمکیاں آزادیِ اظہار سے روکنے کی کوشش ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان دھمکیوں کا انکشاف پاکستانی طالبان کے رہنما کی ٹیلی فون کا پتہ چلنے سے ہوا۔

بی بی سی نشریات جاری رکھے گا

بی بی سی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ کو سکیورٹی کے خطرے کے پیش نظر بی بی سی نے اپنے عملے کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے ہیں۔

سنئیےmp3

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

پاکستان کے خفیہ اداروں کی جانب سے پکڑی جانے والی اس کال میں تحریکِ طالبان پاکستان کے رہنما حکیم اللہ محسود نے اپنے نائب کو لاہور، کراچی، راولپنڈی اور اسلام آباد میں میڈیا کو نشانہ بنانے کی ’خصوصی ہدایات‘ دی ہیں۔

پاکستانی پریس فاؤنڈیشن نے کہا ہے کہ حکومت نے ان علماء کو بھی خبردار کیا ہے جنھوں نے اس واقعے کی کھلم کھلا مذمت کی تھی۔

ادارے کا کہنا ہے کہ حکومت نے طالبان کی دھمکیوں کو سنجیدگی سے لیا ہے۔

آزادیِ اظہار کو کچلنا

آل پاکستان نیوزپیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) نے کہا ہے کہ میڈیا کو طالبان کی دھمکیوں کا مقصد آزادیِ اظہار کو کچلنا ہے۔

ملالہ پر ہونے والے حملے کی پاکستان بھر میں مذمت کی گئی تھی۔ ان تنظیموں نے بھی بچوں کو نشانہ بنانے کی مذمت کی تھی جو طالبان کے مشن سے کسی حد تک ہمدردی رکھتی تھیں۔

پاکستانی میڈیا نے طالبان ذرائع کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ اس حملے کو ملنے والی توجہ پر برہم ہیں اور ان کا خیال ہے کہ یہ جانب دارانہ ہے۔

بی بی سی نے اس صورتِ حال پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور اپنے عملے کی حفاظت کے لیے ہر ضروری اقدام کریں گے اور یہ کہ ہم پاکستان میں اپنی نشریات جاری رکھیں گے‘۔

بی بی سی اردو سروس کے سربراہ عامر احمد خان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بی بی سی کے عملے کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ایسے تمام علاقے جہاں عسکری کشمکش ہو وہاں صحافیوں کے لیے خطرات موجود رہتے ہیں چاہے وہ کسی بھی ادارے کے لیے کام کرتے ہوں۔ یہ خطرہ کبھی بڑھ جاتا ہے اور کبھی ختم ہو جاتا ہے۔

عامر احمد خان کے مطابق ’بی بی سی کی بحثیت ایک ادارہ یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر اس علاقے کی مکمل خبر رکھے جہاں اس کا عملہ کام کر رہا ہے۔ اپنے عملے کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے اقدامات غیر معمولی نہیں ہیں۔ یہ اس وقت بھی ضروری ہوتے ہیں جب خطرہ قدرتی آفات سے ہو‘

عملے کی حفاظت

"بی بی سی کی بحثیت ایک ادارہ یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ہر اس علاقے کی مکمل خبر رکھے جہاں اس کا عملہ کام کر رہا ہے۔ اپنے عملے کی حفاظت کے لیے کیے جانے والے اقدامات غیر معمولی نہیں ہیں۔ یہ اس وقت بھی ضروری ہوتے ہیں جب خطرہ قدرتی آفات سے ہو"

عامر احمد خان

ادھر برطانیہ کے شہر برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ملالہ یوسف زئی کی طبعیت مستحکم ہے اور یہ کہ ان کا علاج کرنے والی میڈیکل ٹیم ان کا مسلسل خیال رکھے ہوئے ہیں۔

ہسپتال کی انتظامیہ اپنی ویب سائیٹ پر ملالہ کی صحت کے متعلق اپ ڈیٹس شائع کر رہی ہے۔

تازہ ترین اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ملالہ نے کل ہسپتال میں دوسری آرام دہ رات گزاری ہے اور ان کا خیال رکھا جا رہا ہے‘۔

اعلامیے کے مطابق ملالہ کے لیے مقرر معالج ٹیم میں کوئین الزبتھ ہسپتال اور برمنگھم چلڈرن ہسپتال کے ڈاکٹر شامل ہیں۔

ہسپتال کی انتظامیہ نے ملالہ کے علاج کے سلسلے میں ایک فنڈ بھی قائم کر دیا ہے جس میں لوگ اپنے عطیات جمع کرا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ ہسپتال کی ویب سائیٹ پر ہی ایک اور خصوصی صفحہ بھی بنایا گیا ہے جہاں ملالہ سے محبت اور ہمدردی کا اظہار کرنے والے لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے پیغامات وہاں درج کریں جنہیں صحت یابی کے بعد ملالہ کو پیش کیا جائے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔