’کچھ علاقے سکول جانے کے لیے نہایت خطرناک‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 19 اکتوبر 2012 ,‭ 08:21 GMT 13:21 PST

تنظیم نے پاکستانی فوج سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سکولوں کو فوجی اڈوں کے طور پر استعمال نہ کریں

بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ طلبہ، اساتذہ، سکولوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی سکیورٹی کو یقینی بنائے۔

تنظیم نے جمعہ کو جاری کیے گئے اپنے بیان میں مسلح گروہوں بشمول طالبان، القاعدہ پر بھی زور دیا ہے کہ وہ بچوں، اساتذہ اور سکولوں پر حملے نہ کریں۔

ہیومن رائٹس واچ کے بقول رواں سال پاکستان میں 96 سکولوں پر حملے کیے گئے۔ تنظیم کے مطابق جن سکولوں پر حملے کیے گئے ان میں سے زیادہ تر صوبہ خیبر پختونخوا اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں واقع ہیں۔

تنظیم کے مطابق مہمند ایجنسی میں چودہ، صوابی میں تیرہ، چارسدہ میں بارہ اور ضلع مردان میں گیارہ سکولوں پر حملے کیے گئے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ صوبہ بلوچستان اور سندھ میں بھی سکولوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ہیومن رائٹس واچ کے پاکستان میں ڈائریکٹر علی دیان خان نے کہا ’پاکستان کے کچھ علاقوں کا شمار دنیا میں سکول جانے کے لیے سب سے زیادہ پرخطر علاقوں میں ہوتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں حکام یہ سمجھ لیں کہ صرف مذمت کرنا ہی کافی نہیں ہے اور یہ حملے اسی وقت ختم ہوں گے اگر ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔‘

"پاکستان کے کچھ علاقوں کا شمار دنیا میں سکول جانے کے لیے سب سے زیادہ پرخطر علاقوں میں ہوتا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ پاکستان میں حکام یہ سمجھ لیں کہ صرف مذمت کرنا ہی کافی نہیں ہے اور یہ حملے اسی وقت ختم ہوں گے اگر ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔"

علی دیان خان

یاد رہے کہ خیبر پختونخوا کے علاقے سوات میں چودہ سالہ ملالہ یوسفزئی کو گولی ماری گئی۔ اس حملے کے بعد پوری دنیا نے اس واقعے کی مذمت کی۔

علی دیان خان نے کہا کہ جس طرح ملالہ کے وقعے پر عالمی مذمت ہوئی اسی طرح ہر اس واقعے پر مذمت ہونی چاہیے جس میں کسی طالب علم یا سکول کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

’وہ سکول جو اب کئی سالوں سے ملبے کا ڈھیر بنے ہوئے ہیں ان کو دیکھ کر حکومت کے عزم کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کتنی پرعزم ہے بچوں کی تعلیم کے حوالے سے۔‘

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم نے زور دیا کہ وفاقی حکومت کو صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر ایسا نظام بنانا چاہیے کہ جہاں بھی کوئی سکول نشانہ بنے اس کی فوری تعمیر کی جائے۔

ہیومن رائٹس واچ نے پاکستانی فوج سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ سکولوں کو فوجی اڈوں کے طور پر استعمال نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ان سکولوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔

علت دیان خان نے کہا ’یہ ایک لڑکی کو گولی مارنے کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ بحران پورے پاکستان کے تعلیمی نطام کا ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت پاکستان اس بات کو سمجھے کہ جو لوگ طلبہ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں وہ پاکستان کو مستقبل سے محروم کرنا چاہتےہیں۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔