’وزیرستان میں آپریشن کیلیے دباؤ ڈالنے نہیں آیا‘

آخری وقت اشاعت:  اتوار 21 اکتوبر 2012 ,‭ 22:30 GMT 03:30 PST

افغانستان اور پاکستان کے لیے امریکہ کے خصوصی سفیر مارک گراسمین نے اس تاثر کو رد کیا ہے کہ ان کے دورۂ پاکستان کا مقصد حکومت پاکستان کو شمالی وزیرستان میں طالبان اور شدت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں کے خلاف فوجی کارروائی پر مجبور کرنا ہے۔

مارک گراسمین نے سنیچر کو پاکستان کے سرکاری ٹی وی چینل پی ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’نہیں میں یہاں اس لیے آیا ہوں کہ پاکستانی رہنماؤں سے گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہماری بات چیت کے سلسلے کو جاری رکھا جا سکے۔‘

گراسمین سے جو پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت سے بات چیت کے لیے سنیچر کو ہی اسلام آباد پہنچے تھے اس انٹرویو میں یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ آیا ان کے دورے کا مقصد پاکستان کی فوج کو شمالی وزیرستان میں طالبان کے خلاف فوجی کارروائی پر مجبور کرنا ہے۔

مارک گراسمین نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے کثیرالجہتی تعلقات ہیں اور وہ دن بدن بہتر ہو رہے ہیں۔

ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات باہمی احترام پر استوار ہونے چاہیئیں اور ان کا محور اقتصادی تعاون ہونا چاہیے۔

انھوں نے کہا کہ امریکی کمپنیوں کو پاکستان میں مز ید سرمایہ کاری کرنی چاہیے۔

مارک گراسمین نے سنیچر کی صبح پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی سے راولپنڈی میں ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے افغانستان کی صورت حال اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔

مارک گراسمین نے کہا کہ شمالی وزیرستان یا کسی اور علاقے میں کارروائی کرنے کا فیصلہ صرف اور صرف حکومت پاکستان کی طرف سے کیا جانا چاہیے اور یہ حکومت پاکستان کا ہی فیصلہ ہو گا۔

انھوں نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کی طرف سے پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کے بارے میں ایک سوال کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسئلہ میرے اس دورے کی بات چیت میں شامل نہیں ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’میں یہ کہنا چاہوں گا کہ پاکستان اور امریکہ القاعدہ کو اس خطے سے ختم کرنے کے لیے مشترکہ طور پر کھڑے ہو جائیں گے یہ ایک بہت اہم قدم ہوگا اور مجھے امید ہے کہ ایسا جلد ہی ہو گا۔‘

مارک گراسمین نے پاکستان کی وزیرِ خارجہ حنا ربانی کھر سے بھی ملاقات کی جس میں حنا ربانی کھر نے دنوں ملکوں کے درمیان وسیع تر تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔

امریکہ ماضی میں پاکستان کی حکومت سے اس بات کا مطالبہ کرتا رہا ہے کہ وہ شمالی وزیر ستان میں طالبان کے ٹھکانوں کے خلاف فوجی کارروائی کرے۔ امریکہ کے خیال میں افغانستان میں نیٹو اور امریکی افواج کے خلاف کی جانے والی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور تیاریاں شمالی وزیرستان میں ہی کی جاتی ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔