شدت پسندوں کے خلاف آپریشن ممکن نہیں: صدر زرداری

آخری وقت اشاعت:  اتوار 21 اکتوبر 2012 ,‭ 15:07 GMT 20:07 PST

جو آپریشن شروع کرنے کا مشورہ دے رے ہیں انہیں یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ ملک میں کتنے مدرسے ہیں اور انہیں متحد ہوتے ہوئےکتنی دیر لگتی ہے: زرداری

پاکستان کےصدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ شدت پسندوں کے خلاف آپریشن شروع کرنے سے پہلے ملک گیر اتفاق رائے پیدا کرنا انتہائی ضرروری ہوتا ہے جو اب ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ انتخاب کے قریب سیاسی جماعتیں دائیں بازو کے ووٹوں کے حصول کے لیے سرکرداں ہیں اس لیے کسی آپریشن کے لیے مطلوبہ اتفاق رائے ممکن نہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ شدت پسندی کے خلاف ہمیں آج بھی جنگ لڑنی ہے اور کل بھی۔

انہوں نے کہا امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان سے جا رہے ہیں اور یہ لڑائی ہمیں خود ہی لڑنی ہے۔

اتوار کو ایوان صدر میں صحافیوں کی تنظیم سیفما کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر زرداری نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں سوات اور جنوبی وزیرستان میں کامیاب آپریشن اسی وجہ سے ہو پائے تھے کہ ان کی حکومت نے ملک میں اتفاق رائے حاصل کر لیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ بغیر اتفاق رائے کے کسی آپریشن کا شروع کرنا خطرات سے خالی نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو آپریشن شروع کرنے کا مشورہ دے رے ہیں انہیں یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ ملک میں کتنے مدرسے ہیں اور انہیں متحد ہوتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔

سوات کی چودہ سالہ لڑکی ملالہ پر طالبان کے حملے کے حوالے سے صدر نے کہا کہ حکومت نے ملالہ یوسفزئی کو سکیورٹی کی پیشکش کی تھی لیکن ان کے والد نے سکیورٹی لینے سے انکار کر دیا تھا۔

آپریشن خطرات سے خالی نہیں

"بغیر اتفاق رائے سے کسی آپریشن کا شروع کرنا خطرات سے خالی نہیں ہے۔ جو آپریشن شروع کرنے کا مشورہ دے رے ہیں انہیں یہ بھی سوچ لینا چاہیے کہ ملک میں کتنے مدرسے ہیں اور انہیں متحد ہوتے ہوئے دیر نہیں لگتی"

صدر زرداری

صدر زرداری نے کہا کہ اگر ملالہ کے والد سکیورٹی کی پیشکش کو قبول بھی کر لیتے تو بھی ملالہ کی حفاظت کو یقینی نہیں بنایا جا سکتا تھا۔

انہوں نے کہا سکیورٹی لینے کی صورت میں شدت پسند بڑا حملہ کرتے جس میں ان کی جان بھی جا سکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ وہ سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو کی مصالحت کی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے حالات مصالحت کی پالیسی کو اپنا کر ہی ٹھیک ہو سکتے ہیں۔

صدر زرداری نے کہا کہ انہوں نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور میں صدر کے عہدے میں مرکوز تمام اختیارات ختم کر دیے ہیں جو ایک کامیابی ہے۔

انہوں نے کہا دنیا میں معاشی طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے اور کل کی معاشی طاقتیں اب پگھل رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت سے ’فرسٹ ورلڈ‘ کی توقعات کی جاتی ہیں جبکہ انہیں جن حالات کا سامنا ہے وہ انتہائی مختلف ہیں۔

انہوں نے کہا پاکستان کے معروضی حالت دوسرے ملکوں سے مختلف ہیں اور پیپلز پارٹی کے دور کی کارکردگی کا جائزہ لیتے ہوئے پاکستان کے معروضی حالات کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان پر تنقید کرنا آسان ہے لیکن حالات اتنے سادہ نہیں ہیں۔

انہوں نے کہا جب ایک پولیس اہلکار نےگورنر پنجاب سلمان تاثیر کو ہلاک کر دیا تو اس مقدمے کو چلانے کے لیے حکومت کے لیے وکیل تلاش کرنا مشکل ہوگیا جبکہ دوسری جانب ایک سابق چیف جسٹس نے خود کو قادری کی پیروی کے لیے پیش کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ چین کے علاوہ دنیا کا کوئی ملک پاکستان کی مدد کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ آصف زرداری نے کہا کہ وہ مرحومہ بینظر بھٹو کے ساتھ تھے جب جمہوری طاقتوں نے پاکستان کو امداد کی یقین دہانیاں کرائیں لیکن جب وقت آیا تو ایسی شرطیں عائد کیں جن کو پورا کرنا شاید پاکستان کے بس میں ہی نہیں ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔