بشیر قریشی قتل: مقدمہ درج کرنے کا حکم

آخری وقت اشاعت:  پير 22 اکتوبر 2012 ,‭ 17:34 GMT 22:34 PST

پاکستان کے صوبہ سندھ کے ضلع بینظیر آباد میں ایک عدالت نے جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر خان قریشی کے قتل کے الزام میں وفاقی وزیر داخلہ ، آئی ایس آئی اور سندھ ریجنرز کے ڈی جی کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے۔

بشیر خان قریشی کی موت کے بعد ان کے ورثا نے اپنی مرضی کا مقدمہ درج کرانے میں ناکامی کے بعد عدالت سے رجوع کیا تھا۔

ضلع بینظیر آباد کے تھرڈ ایڈیشنل سیشن جج انعام اللہ کلوڑو نے بشیر خان قریشی کے بھائی مقصود قریشی کے درخواست کی سماعت کرتے ہوئے حکم دیاکہ درخواست گزار کو اپنی مرضی سے مقدمہ درج کرانے کی اجازت ہے۔

درخواست گزار نے اپنی درخواست میں وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک، ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر الاسلام، ڈی جی رینجرز سندھ کو بشیر خان قریشی کی موت کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

مقصود قریشی کے وکیل شہباز ڈہری کے مطابق درخواست میں ان تینوں کو قصور وار ٹھہرایا گیا ہے اور اب تینوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا جائےگا۔

اعجاز ڈہری کے بقول عدالت کے احکامات مل چکے ہیں اور ایف آئی آر پیر کو ہی کسی وقت درج کرا دی جائے گی۔

جئے سندھ قومی محاذ کے سربراہ بشیر خان قریشی کا سات ماہ پہلے اس وقت انتقال ہو گیا تھا جب کراچی جاتے ہوئے ضلع بینظیر آباد میں ایک دوست کے گھر کھانا کھانے کے بعد ان کی طبعیت ناساز ہو گئی اور اس کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔

جئے سندھ قومی محاذ، بشیر خان قریشی کے اہلخانہ کے مسلسل اصرار اور احتجاج کے بعد حکومت نے یکم اکتوبر کو ایک مقدمہ درج کیا تھا تاہم اس پر ورثا نے عدم اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔