ایم ایم اے بحالی کتنی اہمیت۔۔۔

آخری وقت اشاعت:  منگل 23 اکتوبر 2012 ,‭ 17:31 GMT 22:31 PST

مولانا فضل الرحمان نے چند دن پہلے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اعلان کیا۔

پاکستان میں مذہبی جماعتوں پر مشتمل اتحاد متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اعلان تو کر دیا گیا ہے لیکن اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام (سمیع الحق) کی عدم موجودگی کے باعث اس اتحاد کو موجودہ سیاسی بساط پر اہمیت نہیں دی جا رہی۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے چند دن پہلے اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران متحدہ مجلس عمل کی بحالی کا اعلان تو کیا لیکن اس موقع پر اتحاد کا حصہ سمجھے جانے والی دو اہم مذہبی پارٹیوں جماعت اسلامی اور جے یو آئی (س) کے رہنما موجود نہیں تھے۔

دو ہزار دو کے عام انتخابات میں ملک میں دوسری بڑی پارٹی کی حیثیت سے سامنے آنے والی چھ مذہبی پارٹیوں پر مشتمل اتحاد کو آج کل شدید اندرونی اختلافات کا سامنا ہے۔

اتحاد کے دو اہم سیاسی جماعتوں جماعت اسلامی اور جمعیت علماء اسلام (س) نےموجودہ اتحاد کا حصہ بننے سے صاف انکار کردیا ہے۔ جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ وہ موجودہ ایم ایم اے کا حصہ اس لیے نہیں بن رہی کیونکہ پہلے اس بات کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ ایم ایم اے غیر فعال کیوں ہوئی اور اس کا ذمہ دار کون ہے؟

جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما اسرار اللہ ایڈوکیٹ کے مطابق جب اس بات کا تعین ہوجائے گا کہ اتحاد کس کی وجہ سے غیر فعال ہوئی تب اس کی بحالی کا سوال سامنے آنا چاہیے۔ ان کا اشارہ مولانا فضل الرحمان کی جانب تھا جس پر دیگر پارٹیاں بھی الزام لگاتی رہی ہے کہ اس کی حکومت اور اپوزیشن دونوں میں ایک ہی وقت میں رہنے کی پالیسی کی وجہ سے ایم ایم اے اپنی اہمیت کھو بیٹھی۔

اہمیت

جماعت اسلامی کے صوبائی رہنما اسرار اللہ ایڈوکیٹ کے مطابق جب اس بات کا تعین ہوجائے گا کہ اتحاد کس کی وجہ سے غیر فعال ہوئی تب اس کی بحالی کا سوال سامنے آنا چاہیے۔ ان کا اشارہ مولانا فضل الرحمان کی جانب تھا جس پر دیگر پارٹیاں بھی الزام لگاتی رہی ہے کہ اس کی حکومت اور اپوزیشن دونوں میں ایک ہی وقت میں رہنے کی پالیسی کی وجہ سے ایم ایم اے اپنی اہمیت کھو بیٹھی۔

اسرار اللہ کا مزید کہنا تھا کہ اس خطے میں ان کی جنگ امریکہ کے خلاف ہے جس کی وجہ سے یہ پورا علاقہ کئی سالوں سے جنگ و جدل کا شکار ہے۔ تاہم ان کے بقول مولانا فضل الرحمان اس بات کےلئے تیار نہیں کہ وہ کھلے عام امریکہ کے خلاف جنگ میں ان کا ساتھ دے جس کی وجہ سے ان کی جماعت نے اتحاد میں شامل ہونے سے انکار کردیا ہے۔

لیکن دوسری طرف جے یو آئی کے صوبائی رہنما آصف اقبال داودزئی نے الزام لگایا ہے کہ جماعت اسلامی اسٹبلشمینٹ کی جماعت ہے اور ان ہی کی کہنے پر تمام فیصلے کرتی ہے۔

تاہم اکثر مبصرین کا خیال ہےکہ جماعت اسلامی کی طرف سے ایم ایم اے میں شامل ہونے سے صاف انکار کی بنیادی وجہ خیبر پختون خوا کی موجودہ سیاسی منظر نامہ ہے جس میں شاید ان کو اپنی حیثیت جے یو آئی سے بہتر نظر آ رہی ہے۔

یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ جماعت اسلامی نے دو ہزار اٹھ کے عام انتخابات کا بائیکاٹ کیا تھا جبکہ جے یو آئی نے نہ صرف الیکشن میں حصہ لیا بلکہ مرکز میں حکومت کا حصہ بھی رہی۔ پاکستان میں عام طور پر جو جماعت کسی نہ کسی حد تک اقتدار کا حصہ رہتی ہے اس کی مقبولیت دیگر جماعتوں کے بہ نسبت گر جاتی ہے۔

اتحاد کا امکان

یہ تاثر بھی عام ہے کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نظریاتی طور پر ایک دوسرے قریب بتائے جاتے ہیں بلکہ اکثر اوقات یہ باتیں بھی ہوتی ہیں کہ خیبر پختون خوا کی سطح پر دونوں جماعتوں کے مابین ’سیٹ ٹو سیٹ‘ ایڈجسٹمنٹ یا اتحاد کا امکان موجود ہے۔

اس کے علاوہ خیبر پختون خوا میں تحریک انصاف کے حالیہ جلسوں اور ریلیوں کو دیکھ کر اب اس جماعت کو بھی صوبہ میں ایک اہم سیاسی طاقت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یہ تاثر بھی عام ہے کہ تحریک انصاف اور جماعت اسلامی نظریاتی طورپر ایک دوسرے قریب بتائے جاتے ہیں بلکہ اکثر اوقات یہ باتیں بھی ہوتی ہیں کہ خیبر پختون خوا کی سطح پر دونوں جماعتوں کے مابین ’سیٹ ٹو سیٹ‘ ایڈجسٹمنٹ یا اتحاد کا امکان موجود ہے۔

لیکن اس کے مقابلے میں جے یو آئی اور تحریک انصاف کے رہنما گزشتہ کچھ عرصہ سے ایک دوسرے کے خلاف سرگرم عمل ہیں اور شدید قسم کی بیان بازی کررہے ہیں ۔مولانا فضل الرحمان اور عمران خان ایک دوسرے پر سنگین نوعیت کے الزامات بھی عائد کرتے رہے ہیں۔ بالخصوص تحریک انصاف کی وزیرستان امن مارچ کے بعد سے ان دونوں جماعتوں کے مابین بیانات کی جنگ میں مزید شدت آئی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں اس صوبہ میں تحریک انصاف کو ان علاقوں سے ووٹ ملنے کے امکانات ہے جہاں سے جے یو آئی جیتی رہی ہے۔ ان میں جنوبی اضلاع اور قبائلی علاقوں کا خصوصی طورپر ذکر کیا جاتا ہے۔

مبصرین کا خیال ہے کہ ایسی صورتحال میں جماعت اسلامی کےلیے آئندہ انتخاب ایم ایم اے کے پلیٹ فارم سے لڑنے کا کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہوسکتا۔ اگر اس کی جگہ وہ تحریک انصاف کے ساتھ کوئی ایڈجسمنٹ کرانے میں کامیاب ہوجاتی ہے تو ایسی حالت میں اسے اتحاد کا حصہ بننے سے زیادہ فائدہ ملنے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔