’بے بنیاد بیانات سازگار ماحول کے منافی ہیں‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 24 اکتوبر 2012 ,‭ 09:19 GMT 14:19 PST

پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر سے متعلق سے بیان بازی جار رہتی ہے

پاکستان نے وادی کشمیر میں شدت پسندوں کی دراندازی کے بارے میں ہندوستان کے الزام کو سختی سے مسترد کیا ہے۔

بھارتی وزیر داخلہ سوشیل کمار شندے نے اتوار کو یہ الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان بھارتی زیر انتظام کشمیر میں دراندازی کے لیے شدت پسندوں کو مدد فراہم کر رہا ہے۔

منگل کی رات کو پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں ہندوستان کے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کردیا۔

ترجمان نے کہا کہ کسی ثبوت کے بغیر ایسے بیانات ساز گار ماحول پیدا کرنے میں مدد گار نہیں ہوسکتے جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر کرنے کے لیے ضروری ہیں۔

ترجمان نے اپنے بیان میں ہندوستان کو پیشکش کی کہ اگر اس کے پاس کوئی اطلاع یا شواہد ہیں تو پاکستان کے ساتھ اس کا تبادلہ کیا جائے اور پاکستان اس کا خیر مقدم کرے گا۔

ہندوستان کے وزیر داخلہ ایس کے شندے نے دلی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس خفیہ اطلاعات ہیں کہ پاکستان شدت پسندوں کو وادی کشمیر میں داخل کرانے میں مدد فراہم کررہا ہے۔

گذشتہ ہفتے کے اوائل میں ہندوستان نے الزام عائد کیا تھا کہ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب سے پاکستان کی فوج نے بلا اشتعال گولہ باری کی جس کے نتیجے میں سرحدی قصبے اوڑی کے ایک گاؤں میں ایک حاملہ عورت اور پندرہ سال کے ایک بچے سمیت تین افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

"دنوں کے درمیان دو ہزار تین میں متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو اب تک قائم ہے۔ لیکن اس دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں۔ اکثر اوقات فائرنگ کا یہ تبادلہ دونوں ممالک کی افواج کی چوکیوں تک ہی محدود رہا۔"

لیکن پاکستان نے ہندوستان کے اس الزام پر کوئی بیان جاری نہیں کیا۔ ہندوستان اور پاکستان کی طرف سے ایک دوسرے پر الزامات اور جوابی الزامات ایک ایسے مرحلے پر لگائے جارہے ہیں جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری آئی ہے۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان برسوں کی کشیدگی کے بعد نومبر سنہ دو ہزار تین میں متنازع کشمیر کو تقسیم کرنے والی لائن آف کنٹرول پر فائر بندی کا معاہدہ ہوا تھا جو اب تک قائم ہے۔

لیکن اس دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کے تبادلے کے کئی واقعات پیش آئے ہیں تاہم اکثر اوقات فائرنگ کا یہ تبادلہ دونوں ممالک کی افواج کی چوکیوں تک ہی محدود رہا۔

اس کے نتیجے میں دونوں اطراف سے کئی فوجی ہلاک اور زخمی ہوچکے ہیں البتہ ان نو سالوں کے دوران اب تک لائن آف کنٹرول پر حکام کے مطابق فائرنگ کے تبادلے میں کئی عام شہری بھی نشانہ بن چکے ہیں۔

دونوں ممالک ایک دوسرے پر فائر بندی کی خلاف ورزی کرنے اور فائرنگ شروع کرنے کا الزام لگاتے رہے ہیں۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان فائر بندی کے معاہدے سے پہلے لائن آف کنٹرول پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان گولہ باری کا تبادلہ معمول کی بات تھی۔

اس کے نتیجے میں لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب سینکڑوں شہری ہلاک و زخمی ہوئے یا پھر عمر بھر کے لیے معذور ہوئے اور لوگوں کی املاک تباہ ہوئیں یا ان کو شدید نقصان پہنچا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔