مسلم لیگ ن مخمصے کا شکار

پاکستان میں حزب مخالف کی بڑی جماعت مسلم لیگ نون سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے انتخابات میں صدارتی امیدوار کی حمایت کے معاملے پر دوہری مشکل سے دو چار ہے اوراسی بناء پر اس نے کسی امیدوار کی باقاعدہ حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

مسلم لیگ نون کی طرف سے صدارتی امیدواروں میں سے کسی ایک کی حمایت نہ کرنے کی بنیادی وجہ امیدواروں کا مخالف سیاسی جماعتوں کے حمایت یافتہ ہونا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سالانہ انتخابات اکتیس اکتوبر کو ہوں گے اور ملک بھر کے وکلا اپنی نئی قیادت کو منتخب کریں گے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات کے لیے ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں اپنی وکلا تنظیموں کے ذریعے سالانہ انتخابات میں بھر پور انداز میں حصہ لیتی ہیں اور سیاسی جماعتوں کی طرف سے سپریم کورٹ بار کے صدارتی امیدواروں کی حمایت کا اعلان بھی کیا جاتا ہے۔

اس بار سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں لاہور ہائی کورٹ بار کے دو سابق صدرو یعنی احمد اویس اور اسرارالحق میاں کے درمیان صدارت کے لیے مقابلہ ہے۔

اسرارالحق میاں سپریم کورٹ بار کی سابق صدر عاصمہ جہانگیر کے گروپ کے امیدوار ہیں اور ان کو حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور ان کی اتحادی جماعتوں کےعلاوہ پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والے ججوں کی حمایت حاصل ہے۔

احمد اویس کا تعلق حامد خان کی قیادت میں قائم پروفیشنل گروپ سے ہے اور وہ خود تحریک انصاف کے رہنما ہیں۔ سپریم کورٹ بار کےسابق صدر حامد خان بھی تحریک انصاف کے مرکزی قائدین میں سے ایک ہیں۔

سپریم کورٹ بار کے انتخابات کے لیے کم وپیش تمام سیاسی جماعتوں کی وکلا تنظیموں نے کسی ایک صدارتی امیدوار کی حمایت کا اعلان کردیا ہے تاہم مسلم لیگ نون نے اس بارے میں خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

مسلم لیگ نون اس سے پہلے سپریم کورٹ بار کے انتخابات میں حامد خان گروپ کی حمایت کرتی رہی ہے۔

دو برس قبل مسلم لیگ نون نے عاصمہ جہانگیر کے مقابلہ میں احمد اویس کی کھل کر حمایت کی تھی لیکن اس مرتبہ احمد اویس کی حمایت سے گریز کیا گیا ہے۔

ان دو برسوں کے دوران تحریک انصاف مسلم لیگ نون کی ایک حریف جماعت کے طور پر سامنے آئی ہے۔

دوسری طرف مسلم لیگ نون کے لیے اس امیدوار کی حمایت کرنا اس قدر آسان نہیں ہے جو حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور پی سی او ججوں کی حمایت یافتہ ہوں جن کو مسلم لیگ نون کڑی تنقید کا نشانہ بناتی رہی ہے۔

مسلم لیگ نون لائیرز فورم کے سربراہ نصیر احمد بھٹہ کا کہنا ہے کہ ان کی جماعت کی قیادت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسلم لیگ نون کے وکلا سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں غیر جانبدار رہیں۔

ان کے بقول مسلم لیگ نون کے وکلا کو اس بات کا پابند نہیں کیا گیا کہ وہ کس امیدوار کو ووٹ دیں گے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابات میں مسلم لیگ نون کی کسی صدارتی امیدوار کی باقاعدہ حمایت نہ کرنے کے فیصلے سے خود مسلم لیگ نون کے وکیل دو حصوں میں بٹ گئے ہیں اور اب صدارتی امیدوار پر ہے کہ وہ مسلم لیگ نون کے غیر جانبدار ووٹر وکلا کو اپنی طرف کس طرح مائل کرتے ہیں۔