کراچی بدامنی، تاجر احتجاج جاری رکھیں گے

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 26 اکتوبر 2012 ,‭ 17:02 GMT 22:02 PST

کراچی کے تاجر روز روز کے ان معاملات سے تنگ آ چکے ہیں: ہارون آگر

ایوان صنعت و تجارت کراچی کے صدر ہارون آگر نے واضح کیا ہے کہ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد سے ملاقات کے باوجود کراچی کی تاجر برادری امن و امان، پرچی و بھتّہ سسٹم، جرائم، لوٹ مار قتل و غارت اور دیگر جرائم کے خلاف اپنا احتجاج (دھرنا اور ہڑتال وغیرہ) اعلان کے مطابق ہی جاری رکھے گی۔

تاجروں کی ملک گیر تنظیم وفاق ہائے ایوانِ صنعت و تجارت یا فیڈریشن آف چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کی کراچی شاخ یا کے سی سی آئی نے اعلان کر رکھا ہے کہ تاجر برادری کراچی میں امن و امان کی مخدوش صورتحال اور اس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیوں کے شدید متاثر ہونے کے خلاف تین نومبر کو سندھ کے گورنر اور وزیر اعلیٰ کی رہائشگاہوں پر دھرنا دے گی اور دس نومبر کو ہڑتال کی جائے گی۔

اس سلسلے میں کراچی چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ہارون آگر نے بی بی سی کے نامہ نگار جعفر رضوی کو بتایا کہ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد نے گزشتہ شب تاجروں کے وفد سے ملاقات کی تھی لیکن وہ امن و امان سے متعلق معاملہ تھا۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس ملاقات کی خبر سے تاثر پیدا ہوا کہ شاید تاجر برادری عید کے بعد اپنا احتجاجی پروگرام ملتوی کر سکتی ہے مگر وہ واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ احتجاج اعلان شدہ معمول کے مطابق ہی جاری رہے گا۔

"حکومت تاجروں کی تشویش سمجھتی ہے اور اس دور کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔ پولیس کو اضافی نفری تعیانات کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں اور باقی معاملات حل کرنے کے لیے تاجر برادری سے بات چیت کی جا رہی ہے"

صوبائی وزیر شرجیل میمن

تاجر تنظیم کے صدر کا کہنا ہے کہ کراچی کے تاجر روز روز کے ان معاملات سے تنگ آ چکے ہیں اور مجرم پوری آزادی کے ساتھ دندناتے پھر رہے ہیں جو چاہتے ہیں کر رہے ہیں اور ہم شدید پریشانی اور خوف میں مبتلا ہیں۔

’بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود بھی صورتحال میں ذرہّ برابر بہتری نہیں آئی اور پولیس جیسے ادارے بھی ناکام رہے۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ پولیس میں بھرتیاں، تبادلے، تقرر سب کچھ سیاست کی نذر ہو چکا ہے تو پھر ہماری شکایات کا ازالہ کیسے ہوگا۔ ہر بار ہمارے نمائندے یہ شکایات لے کر حکام سے ملتے ہیں۔ بس الفاظ سے تسلی دی جاتی ہے۔‘

لیکن خود تاجر رہنما نے کہا کہ ان کو احتجاج کے نتیجے میں بھی امید نہیں ہے کہ صورتحال میں بہتری آ سکے گی۔

’جب ہم احتجاج کرتے ہیں مثلاً ہڑتال، دھرنا جلوس وغیرہ تو تین چار دن کے لیے کمی آ جاتی ہے، جرائم تھم جاتے ہیں۔ جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر ہمارے حکام پولیس اور ریاست کے ادارے چاہیں تو سب کچھ ہو سکتا ہے۔ مگر پھر بھی کیا ہوتا ہے۔ تین چار دن تک سب ٹھیک اور پھر وہی پرچی۔ بھتہ، اغواء برائے تاوان، سب ویسے کا ویسا۔ لیکن اس کے باوجود ہم اپنا احتجاج جاری رکھیں گے۔ کم از کم آواز تو اٹھے گی۔‘

واضح رہے کہ کراچی کے تاجروں نے احتجاج کا اعلان ایسے وقت کیا ہے جب شہر کے مختلف علاقوں سے فرقہ وارانہ، سیاسی، لسانی جماعتوں کے کارکنوں اور ہمدردوں، عام شہریوں یا پھر پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کی خبر روز آتی ہے۔

کراچی میں پرتشدد واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں

تاجروں کی ملک گیر تنظیم ایف پی سی سی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی میں فوج تعینات کرکے جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور تاجر برادری سمیت پورے شہر کو امن و امان دیا جائے۔

یہ چہ مگوئیاں بھی رہیں کہ تاجروں میں شہر کو فوج کے حوالے کیے جانے کے معاملے پر اختلاف ہے لیکن تاجر برادری کے رہنما ہارون آگر نے اس کے شدت سے تردید کی۔

ان کا کہنا ہے کہ اس ضمن میں’تاجر برادری میں کوئی اختلاف نہیں۔ امن و امان چاہے فوج دے یا پولیس، کوئی بھی دے مگر دے ہمیں، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کون دے گا۔‘

اس سلسلے میں سرکاری موقف کے لیے رابطہ کرنے پر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا کہ’حکومت تاجروں کی تشویش سمجھتی ہے اور اس دور کرنے کے لیے ہر ممکن قدم اٹھا رہی ہے۔ پولیس کو اضافی نفری تعینات کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں اور باقی معاملات حل کرنے کے لیے تاجر برادری سے بات چیت کی جا رہی ہے۔‘

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔