پیرول:’اختیارات کا شرمناک استعمال ہوا‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 31 اکتوبر 2012 ,‭ 14:34 GMT 19:34 PST

عدالت کو بتایا کہ نیو آرم ایکٹ اور لائسنس پالیسی تیاری کے مرحلے میں ہے، جس کے اجراء سے صورتحال بہتر ہوگی۔

سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ کراچی میں ملزمان کو پیرول پر رہا کیے جانے کے حوالے سے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا گیا ہے۔

بدھ کو جسٹس انور ظہیر جمالی، جسٹس سرمد جلال عثمانی، جسٹس عارف حسین خلجی، جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل بینچ نے گذشتہ سال کراچی میں ہلاکتوں کے واقعات کے از خود نوٹس کی سماعت کے دوران جاری کیے گئے احکامات پر عمل درآمد کا جائزہ لیا۔

بدھ کو سماعت کے موقع پر سپریم کورٹ نے سندھ کی حکومت سے سوال کیا ہے کہ جن ملزمان کو پیرول پر رہا کیا گیا ہے، کیا اس میں سے ایک بھی ملزم ایسا ہے جس کو رہا کرنا چاہیئے تھا؟ عدالت نے قرار دیا ہے کہ اختیارات کا شرمناک استعمال کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے بینچ نے سندھ کی حکومت کو پیرول پر رہا ہونے والے ملزمان کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی تھی۔

سندھ حکومت نے عدالت میں سالانہ اعداد و شمار پیش کیے جسے جج صاحبان نے مسترد کر دیا۔

بینچ کے سربراہ جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ ’پیرول پر رہا ہونے والوں کے نام، تعداد اور ان پر کس نوعیت کے مقدمات تھے ان کی تفصیلات پیش کی جائیں‘۔

جسٹس انور ظہیر کا کہنا تھا کہ ’اسی طرح سزا یافتہ ملزمان کو رہا کر دیا جائے گا تو پھر عدالت کا تقدس کہاں رہے گا‘؟

"اسی طرح سزا یافتہ ملزمان کو رہا کردیا جائے گا تو پھر عدالت کا تقدس کہاں رہے گا؟"

جسٹس انور ظہیر

جسٹس سرمد جلال عثمانی نے بھی ان کا ساتھ دیا اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ فتاح ملک کو مخاطب ہوکر کہا کہ ’آپ کے علم میں ہے کہ سزاؤں کی شرح کیا ہے عدالت جن کو سزا دیتی ہے حکومت ان کو چھوڑ دیتی ہے‘۔

صوبائی حکومت کو دوبارہ ہدایت کی گئی کہ پیرول پر رہا ملزمان کی تفصیلات پیش کی جائیں۔

ایڈیشنل چیف سیکرٹری ہوم وسیم احمد نے عدالت کو بتایا کہ نیو آرم ایکٹ اور لائسنس پالیسی تیاری کے مرحلے میں ہے، جس کے اجراء سے صورتحال بہتر ہوگی۔ جسٹس انور ظہیر نے انہیں مخاطب ہوکر کہا کہ ’ایسی پالیسی بنائیں جس سے اسلحہ غلط ہاتھوں میں نہ جائے، ایسا نہ ہوں کہ آنکھیں بند کر کے رکن اسمبلی کو دو سو لائسنس دے دیے جائیں کہ تقسیم کرو‘۔

وسیم احمد نے عدالت کو یقین دہانی کرائی کہ حکومت سپریم کورٹ کی ہدایت کو سنجیدگی سے لے رہی ہے، اس کا ثبوت یہ ہے کہ معاوضے کی ادائیگی کے لیے اخبارات میں اشتہارات شایع کر دیے گئے ہیں۔ جسٹس امیر ہانی نے انہیں کہا کہ انہیں خوشی ہوگی کہ معاوضے کے بجائے زندگی کی حفاظت کی جائے۔

سماعت کے دوران بینچ کے سربراہ جسٹس انور ظہیر جمالی نے آئی جی سندھ پولیس سے معلوم کیا کہ کراچی میں سات سے آٹھ ہزار طالبان داخل ہو چکے ہیں، یہ ایک سنگین معاملہ ہے کل تک اس کا جواب دیں۔

سنہ انیس سو چورانوے اور انیس سو چھیانوے کے کراچی آپریشن میں شریک پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے حوالے سے سماعت کے موقعے پر جج صاحبان نے پولیس اہلکاروں کو سہولیات کی عدم دستیابی پر بھی روشنی ڈالی۔

جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ ’کیا ایسی کوئی پالیسی نہیں ہے کہ بھرتی کے وقت اہلکاروں کی انشورنس بھی کی جائے‘؟

"ایسی پالیسی بنائیں جس سے اسلحہ غلط ہاتھوں میں نہ جائے، ایسا نہ ہوں کہ آنکھیں بند کرکے رکن اسمبلی کو دو سو لائسنس دے دیئے جائیں کہ تقسیم کرو۔"

جسٹس انور ظہیر

آئی جی نے انہیں آگاہ کیا کہ انشورنس ہوتی ہے مگر وہ ملازمت تک محدود ہے اگر وہ کہیں تو حکومت کو بعد کی بھی سفارش کی جا سکتی ہے۔ جسٹس عارف حسین خلجی کا کہنا تھا کہ اگر پولیس اہلکار نے ایسے فرائض سر انجام دیے ہیں جس کی وجہ سے اسے ملازمت کے بعد مار دیا جاتا ہے تو اس کا کیا ہوگا۔

جسٹس انور ظہیر جمالی نے پاکستان فوجی اور رینجرز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں اہلکاروں کو رہائش کھانے پینے اور سفر کی سہولیات حاصل ہیں۔ یہاں پر جو اہلکار جج صاحبان کی ڈیوٹی پر ہیں انہیں بھی کھانا کھلانا پڑتا ہے۔ جسٹس امیر ہانی مسلم نے آئی جی سے سوال کیا کہ کیا وہ پولیس ہیڈ کوارٹر گئے ہیں وہاں کس طرح اہلکار رہتے ہیں۔

چیف سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے کراچی کی زمینوں کی سروے کی منظوری لے لی اس حوالے سے رقم بھی مختص کردی گئی ہے، آئندہ تین ماہ میں سروے ہوجائےگی۔ جسٹس انور ظہیر جمالی کا کہنا تھا کہ بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد ریونیو اہلکاروں نے خود ریکارڈ جلایا تھا، زمین سرکار کی ہے اور سرکار کو خود اس کی حفاظت کرنا چاہیے۔

بدھ کو سماعت کے موقع پر بھی بھتہ خوری کے معاملات زیر سماعت آئے، جسٹس امیر ہانی مسلم کا کہنا تھا کہ ’ہر دوسرا تاجر چیخ اور چلا رہا ہے کہ اسے سکیورٹی چاہیے۔ ہر چوتھے روز ہڑتال کا اعلان ہو رہا ہے‘۔

جسٹس عارف حسین خلجی کا کہنا تھا کہ کتنا سرمایہ یہاں سے بنگلہ دیش اور دوسرے ملکوں کی طرف منتقل ہوگیا ہے، یہاں بیروزگاری بڑھ جائے گی۔

آئی جی سندھ پولیس کا کہنا تھا کہ بھتہ خوری سنجیدہ مسئلہ ہے تاجر تعاون نہیں کر رہے، جسٹس عارف حسین خلجی کا کہنا تھا کہ پہلے انہیں سکیورٹی تو فراہم کریں، جسٹس امیر ہانی مسلم نے ان کی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ بدامنی کی وجہ سے معشیت زیرو ہوگئی ہے، تاجر کیا مانگ رہے ہیں پانچ سو اہلکار کیا یہ ان کا حق نہیں ہے۔

سپریم کورٹ بار کے انتخابات کی وجہ سے عدالت نے مزید سماعت جمعرات کی صبح تک ملتوی کردی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔