کشمیر: والدین نے بیٹی کو قتل کر دیا

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 00:24 GMT 05:24 PST

ایسے واقعات پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بہت کم ہوتے ہیں

پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں پولیس کا کہنا ہے کہ ایک پندرہ سالہ بچی کے ’غیرت کے نام پر‘ تیزاب پھینک کر قتل کرنے کے الزام میں ان کے والدین کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

حالیہ تاریخ میں پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ ہے جو منظرِ عام پر آیا ہے۔

’غیرت کے نام پر قتل‘ کے واقعات میں عموماً مردوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ متاثرہ خاتون، خاندان کے لیے بے عزتی کا سبب بنی ہیں۔

پاکستان کے انسانی حقوق کے کمشن کا کہنا ہے گذشتہ سال میں نو سو تنتالیس خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا جو کہ سنہ دو ہزار دس کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ ہے۔

لیکن ایسے واقعات پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں بہت کم ہوتے ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ جنوبی ضلع کوٹلی کے ایک دور دراز گاؤں میں پیش آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کو اس واقعے کی اطلاع ہلاک ہونے والی لڑکی کی بڑی بہن نے دی۔

مقامی پولیس اہلکار طاہر ایوب نے بی بی سی کو بتایا کہ اس لڑکی کے والد کو اس وقت غصہ آیا جب پیر کے روز انھوں نے اپنی بیٹی کو موٹر سائیکل پر سوار دو لڑکوں کو غور سے دیکھتے ہوئے پکڑا کیونکہ ان کے والدین کو شک تھا کہ ان کی بیٹی کے ان لڑکوں میں سے ایک کے ساتھ مراسم ہیں۔

پولیس کے مطابق اس موقع پر وہ اپنی بیٹی کو گھر کے اندر لے کر گئے، انھیں مارا پیٹا اور پھر اور اپنی بیوی کی مدد سے اس پر تیزاب پھینک دیا۔

پولیس نے بتایا کہ اس کے بعد وہ اپنی بیٹی کو اگلی صبح تک ہسپتال نہیں لے کر گئے اور وہ منگل کی شام کو زخموں کا تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہوگئی۔

کوٹلی میں سرکاری ہسپتال کے سربراہ محمد جہانگیر نے ان کی ہلاکت کی تصدیق کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ جب لڑکی کو ہسپتال لایا گیا اس کا جسم پینتیس فیصد تک جلس چکا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ لڑکی کی شادی شدہ بہن کو اس وقت شبہہ پڑا جب والدین سوگواروں کو میت کا چہرہ دیکھانے سے انکار کر دیا۔

اس سال مارچ میں حکومت نے تیزاب پھینکنے کے جرم کے لیے عمر قید اور دس لاکھ روپے جرمانے کی سزا متعین کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔