خضدار: پیٹرول پمپ پر فائرنگ، اٹھارہ افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 14:29 GMT 19:29 PST

پاکستان کے شورش زدہ صوبے بلوچستان کے ضلع خضدار میں ایک پیٹرول پمپ پر فائرنگ کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت اٹھارہ افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں مقامی صحافی کے مطابق خضدار کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر فصیح الدین کا کہنا ہے کہ نامعلوم افراد نے ایک پیٹرول پمپ پر فائرنگ کی جس سے پمپ پر آگ لگ گئی۔

ڈی پی او کے مطابق خصدار کے علاقے جالاوال کمپلیکس میں واقع اس پیٹرول پمپ کے قریب ہی کھڑی مسافر وین کو بھی آگ نے لپیٹ میں لے لیا۔ اس واقعے میں اٹھارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں آٹھ عورتیں اور تین بچے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس واقعے میں قریبی چار دکانوں کو بھی نقصان پہنچا ہے۔

کلِک متوسط طبقے کی ترقی بعض گروہوں کو اچھی نہیں لگتی: ایم این اے خضدار

واضح رہے کہ بارہ اکتوبر کو بلوچستان کے امن و امان کے معاملے میں اپنے عبوری حکم میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بلوچستان کی حکومت آئین کے تحت عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے اور اسی وجہ سے حکمرانی کی اہلیت کھو بیٹھی ہے۔

حضدار کے ڈی ایس پی عبدالستار نے اے پی پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ موٹر سائیکل سوار مسلح افراد کی فائرنگ سے تیل کے ڈرموں میں آگ لگ گئی اور اس نے قریب میں کھڑی مسافر وین کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔

خضدار کے کمشنر ڈاکٹر اکبر ہری وال نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی صورتحال میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے اور کبھی یہ بلکل ٹھیک ہو جاتی ہے۔صحافیوں کو نشانہ بنانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ صرف صحافیوں کو نہیں بلکہ زندگی کے تمام طبقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

خضدار میں امن و امان کی صورتحال معمول پر لانے کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہر میں سکیورٹی کے لیے ایف سی، انسدادِ دہشتگردی فورس کے اہلکارو ں سمیت دیگر سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے۔

خضدار سے قومی اسمبلی محمد عثمان ایڈووکیٹ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کی طرح حضدار میں اس وقت بڑے برے حالات ہیں اور یہاں وکلا، صحافی، ڈاکٹرز سمیت شہریوں کو بے دردی سے مارا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس میں ایک گہری سازش کے تحت ایجنسیاں اور حکومت کے حامی سردار اس میں براہ راست یا بلاواسطہ ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خضدار بلوچستان کا واحد شہر ہے جہاں پر تعلیم اور صحت کے بہترین مراکز قائم ہو چکے ہیں اور یہاں سے متوسط طبقے کے بچے تعلیم حاصل کرنے آتے تھے اور یہی بات ان گروہوں کو اچھی نہیں لگتی تھی کہ متوسط طبقہ ان کی رٹ کو چیلنج کر رہا ہے کیونکہ متوسط طبقہ اعلیٰ عہدوں پرپہنچانا شروع ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔