’بلوچستان پر عدالت کا عبوری حکم برقرار ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 2 نومبر 2012 ,‭ 07:59 GMT 12:59 PST

سپریم کورٹ نے بلوچستان میں حکومت کی ناکامی کے بارے میں جاری کیا گیا عبوری حکم واپس لینے کی درخواست رد کر دی ہے۔

پاکستان کی سپریم کورٹ نے بلوچستان میں حکومت کی ناکامی کے بارے میں جاری کیا جانے اپنا عبوری حکم واپس لینے کی درخواست رد کر دی ہے۔

جمعہ کو اسلام آباد میں چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال کے معاملے کی سماعت کی۔

کلِک بلوچستان حکومت حکمرانی کی اہلیت کھو بیٹھی ہے

صوبے میں امن وامان کے حوالے سے یہ درخواست بلوچستان بار کونسل کی طرف سے دائر کی گئی ہے۔

سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل عرفان قادر نے بلوچستان کی صورتحال پر وزارتِ داخلہ کی رپورٹ پیش کی۔

ریڈیو پاکستان کے مطابق اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں تمام ادارے اپنا کام کر رہے ہیں اور پولیس کے محکمے میں نئی تعیناتیوں کی وجہ سے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں کمی آئی ہے۔

اٹارنی جنرل نے یہ بھی کہا کہ بلوچستان کی صورتحال اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد خراب ہوئی اور ان کی ہلاکت کے ذمہ داران ان مسائل کے بھی ذمہ دار ہیں جن کا صوبے کو آج سامنا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ صوبائی حکومت ناکام ہو چکی ہے اور عدالتی حکم پر انہیں تحفظات ہیں۔

عدالت نے یہ بھی کہا کہ وفاق نے بلوچستان کے حالات میں بہتری کے لیے ایف سی کی فراہمی کے علاوہ اور کیا کام کیا ہے۔

ہمارے نامہ نگار کے مطابق اس موقع پر کمرۂ عدالت میں موجود بلوچستان کے ایڈوکیٹ جنرل امان اللہ کنرانی ملک نے عدالت سے استدعا کی کہ وہ بارہ اکتوبر کو حکومتِ بلوچستان کی اہلیت کے بارے میں جاری کیا گیا عبوری حکم واپس لے لے کیونکہ اس سے آئینی اور انتظامی مشکلات پیدا ہو رہی ہیں۔

تاہم عدالت نے ان کی درخواست ماننے سے انکار کر دیا۔

بارہ اکتوبر کو اسی معاملے میں اپنے عبوری حکم میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بلوچستان کی حکومت آئین کے تحت عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے میں ناکام رہی ہے اور اسی وجہ سے حکمرانی کی اہلیت کھو بیٹھی ہے۔

اسی عدالتی حکم کے بعد بلوچستان کی اسمبلی کے سپیکر محمد اسلم بھوتانی نے اسمبلی کے آئندہ طلب کیے گئے اجلاس کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔

خیال رہے کہ بلوچستان کے وزیرِاعلیٰ اسلم رئیسانی نے اس ماہ کی نو اور دس تاریخ کو جنوبی شہر گوادر میں صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلایا تھا۔

اسلم بھوتانی کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کے بارے میں درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ میں دیے گئے ریمارکس کے پیشِ نظر اجلاس بلانا توہینِ عدالت ہوسکتا ہے۔

بلوچستان حکومت نے عدالت سے وکیل کی تقرری کے لیے چار ہفتے کی مہلت مانگی تاہم عدالت نے انہیں دو ہفتے کا وقت دیتے ہوئے سماعت بیس نومبر تک ملتوی کر دی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔