لوئر دیر میں امن لشکر کے سربراہ قتل

آخری وقت اشاعت:  اتوار 4 نومبر 2012 ,‭ 14:55 GMT 19:55 PST

کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے اس حملے کی زمہ داری قبول کی ہے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کےعلاقے لوئر دیر میں مقامی امن لشکر کے سربراہ عبدالرحمان کوگولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عبدالرحمان اتوار کی صبح اپنے گھر سے کام پر جا رہے تھے کہ تاک میں بیٹھے ہوئے نامعلوم افراد نے ان پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ان کی ہلاکت ہوئی۔

عبدالرحمان اپنے علاقے کے ایک فعال سیاستدان تھے مقامی یونین کونسل کے ناظم بھی رہ چکے تھے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان احسان اللہ احسان نے نامعلوم مقام سے بذریعہ فون اس حملے کی زمہ داری قبول کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے امن لشکر سے متعلقہ افراد جہاں ہوں گے انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

ملاکنڈ ڈویژن میں امن کمیٹیوں سے وابستہ افراد پر ایک ہفتے کے دوران یہ چوتھا حملہ ہے۔ ان چار حملوں میں سے دو سوات میں جبکہ ایک ایک ضلع بونیر اور لوئر دیر میں ہوا۔

سنیچر کو بونیر کے علاقے ڈگر میں مقامی امن لشکر کے سربراہ فاتح خان کو ایک خود کش حملہ آور نے حملہ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

اس حملے کے نتیجے میں فاتح خان اور ان کے تین محافظوں سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ چند روز پہلے سوات میں بھی امن کمیٹی کے مقامی سربراہ کے گھر پر فائرنگ کی گئی تھی۔

سوات میں ان امن لشکروں کا قیام تین سال قبل طالبان کے خلاف ہونے والے آپریشن کے دوران عمل میں آیا تھا اور ان امن لشکروں نے طالبان کے خلاف کارروائی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔