ملکی استحکام ٹینکوں سے نہیں ہوتا: چیف جسٹس

آخری وقت اشاعت:  پير 5 نومبر 2012 ,‭ 17:32 GMT 22:32 PST

لوگوں کو اعلیٰ عدالت سے توقع ہے کہ وہ انھیں بغیر کسی تعصب کے فوری انصاف فراہم کرے: چیف جسٹس

پاکستان کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے کہا ہے کہ وہ دن گئے جب ملکی استحکام اور سلامتی کا تعین ٹینکوں اور میزائلوں کی تعداد سے ہوا کرتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ آج قومی سلامتی کا تعین اپنے عوام کی ہر قیمت پر فلاح و بہبود اور ان کے قدرتی اور سماجی حقوق کے تحفط سے ہوتا ہے۔

وہ پیر کے روز اسلام آباد میں نیشنل مینیجمنٹ کالج کے طلبا اور اساتذہ سے خطاب کر رہے تھے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتوں کو آئین کے نفاذ کا مسئلہ درپیش ہے۔ چاہے بلوچستان میں امن و امان کا معاملہ ہو یا کراچی میں، ناقص انتظامیہ کے نقشِ قدم ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ بڑے قومی مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی مربوط کوشش نہیں دکھائی دیتی۔

انھوں نے حاظرین کو بتایا کہ جج آئین کے محافظ ہیں اور ان کے کندھوں پر بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ تمام ادارے قانون کی بالادستی قائم رکھیں۔

انھوں نے کہا کہ آئین میں ہر شہری کو بنیادی حقوق حاصل ہیں جنھیں کلی طور پر نافذ ہونا چاہیے۔ یہ ریاست کی انتظامیہ کی ذمے داری ہے کہ ان حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے اور ان حقوق کی خلاف ورزی کے ساتھ فوری طور پر نمٹے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آج کی سپریم کورٹ کو احساس ہے کہ اسے وکیلوں، طلبا، میڈیا کے ارکان، سول سوسائٹی نے بے مثال جدوجہد کے ذریعے بحال کیا ہے۔ اس لیے ان کو اعلیٰ عدالت سے توقع ہے کہ وہ انھیں بغیر کسی تعصب کے فوری انصاف فراہم کرے۔

"چاہے بلوچستان میں امن و امان کا معاملہ ہو یا کراچی میں، ناقص انتظامیہ کے نقشِ قدم ہر جگہ نظر آتے ہیں۔"

چیف جسٹس آف پاکستان

اس موقعے پر چیف جسٹس افتخار چودھری نے حاظرین سے سوال کیے: کیا ملک میں محنت کا صلہ ملتا ہے؟ کیا قانون اور آئین کی بالادستی کے جڑواں اصولوں کا سختی سے نفاذ ہو رہا ہے؟ کیا ملک کے شہری نظام پر اعتماد رکھتے ہیں؟ کیا موجودہ نظام میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ بدعنوانی کی حوصلہ شکنی کرے؟ کیا ہمارے نظام میں سماجی اور جائیداد کے حقوق محفوظ ہیں؟

چیف جسٹس نے کہا کہ اگر ان سوالوں کا جواب ہاں میں ہے تب ہم دعویٰ کر سکتے ہیں کہ ملک کا قانون شفاف ہے۔ لیکن اگر جواب نفی میں ہے تو پھر اس کا مطلب ہے کہ نظام لوگوں کو مساوی مواقع فراہم نہیں کرتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔