برطانیہ: ملالہ یوسفزئی کی حالت بہتر

آخری وقت اشاعت:  پير 5 نومبر 2012 ,‭ 12:42 GMT 17:42 PST

گزشتہ ماہ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے کوئین الزبتھ میں زیر علاج اپنی بیٹی سے ملاقات کی تھی

برطانیہ کے شہر برمنگھم کے کوئین الزبتھ ہسپتال کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی ملالہ یوسف زئی کی حالت اب بہتر ہے۔

دریں اثناء گزشتہ ماہ نو اکتوبر کو پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے حملے میں ملالہ کے ساتھ زخمی ہونے والی دوسری طالبہ کائنات ریاض نے صحت یابی کے بعد دوبارہ سکول جانا شروع کر دیا ہے۔

کوئین الزبتھ ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے پیر کو جاری ہونے والے اعلامیے کے مطابق سنیچر اور اتوار کو ہسپتال میں ملالہ کی طبعیت پرسکون رہی۔

اعلامیے کے مطابق ملالہ اب تین ہفتوں سے ہسپتال میں کوئین الزبتھ اور برمنگھم چلڈرن ہسپتال کے ماہر معالجوں کی نگرانی میں زیر علاج ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ہسپتال کی ویب سائٹ پر ملالہ کے لیے پیغامات کا جو صفحہ بنایا گیا ہے اس پر ملالہ کی حمایت میں چھ ہزار پانچ سو کے قریب پیغامات آ چکے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ہسپتال کی انتظامیہ ملالہ کے لیے کارڈز اور تحائف وصول کرنے سے قاصر ہے لیکن یہ چیزیں برمنگھم میں پاکستانی قونصل خانے بھیجی جا سکتی ہیں۔

ملالہ یوسفزئی پر حملے کے خلاف پاکستان اور بیرون ملک غم و غصے کا اظہار کیا گیا

کوئین الزبتھ ہسپتال برمنگھم کے خیراتی ادارے نے ہسپتال کے مرکزی فنڈ سے جڑا ایک اکاؤنٹ بھی قائم کیا ہے جس میں ملالہ کے علاج میں حصہ بٹانے کے خواہشمند افراد رقم بھیج سکتے ہیں۔

دریں اثناء پاکستان کی وادی سوات میں طالبان کے حملے میں زخمی ہونے والی ملالہ یوسف زئی کے ساتھی طالبہ کائنات ریاض نے صحت یاب ہونے کے بعد پیر سے دوبارہے سکول جانا شروع کر دیا ہے۔

گزشتہ ماہ ملالہ یوسفزئی کے والد ضیاالدین یوسفزئی نے کوئین الزبتھ میں زیر علاج اپنی بیٹی سے ملاقات کی تھی۔

ضیاالدین یوسفزئی نے ملاقات کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا ان کی بیٹی تیزی سے صحت یاب ہو رہی ہے اور جس شخص نے ملالہ پر گولی چلائی تھی وہ انہیں مارنا چاہتا تھا۔ لیکن وہ عارضی طور پر گری تھی، وہ دوبارہ اٹھے گی۔ وہ دوبارہ کھڑی ہو گی اور وہ اب بھی کھڑی ہو سکتی ہے۔ لیکن جب وہ گری، (پورا) پاکستان کھڑا ہو گیا۔ اور اس کے ساتھ پوری دنیا، اور یہ اہم موڑ تھا۔

گزشتہ ماہ اکتوبر کی نو تاریخ کو سوات سے تعلق رکھنے والی قومی امن ایوراڈ یافتہ ملالہ یوسفزئی کو اس وقت طالبان کی جانب بھیجے جانے والے حملہ آور نے فائرنگ کر کے زخمی کر دیا تھا جب وہ سکول سے گھر جانے کے لیے سکول وین میں سوار تھیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔