پاک فوج قومی استحکام کی علامت ہے: نواز شریف

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 8 نومبر 2012 ,‭ 23:11 GMT 04:11 PST

’فوج کی موجودہ قیادت نے کسی بھی مہم جوئی سے اجتناب کیا ہے‘

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سربراہ میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہر پاکستانی پاک فوج کو مضبوط اور منظم ادارہ دیکھنا چاہتا ہے۔

یہ بات انہوں نے بدھ کو میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہی۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی اے پی پی کے مطابق میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ جو لوگ فوج اور عوام کے درمیان کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں وہ درحقیقت قوم کے مفاد کے خلاف ہیں۔

نوازشریف نے کہاکہ پاک فوج قومی استحکام کی علامت ہے جو اپنا کردار موثر طورپر ادا کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوج کی موجودہ قیادت نے کسی بھی مہم جوئی سے اجتناب کیا ہے اور بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی کے حالیہ بیان میں بھی آئین اور قانون کی بالادستی کی بات کی گئی ہے۔

مسلم لیگ نواز کے قائد نے کہا کہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اور بری فوج کے سربراہ جنرل کیانی کا بیان پاکستان کے لیے امید کی کرن ہیں۔

’ہم سب نے ماضی میں غلطیاں کی ہیں اور ملک کے روشن مستقبل کے لیے ان غلطیوں سے سبق سیکھنا چاہیے۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ آئین کی تشریح کرنا سپریم کورٹ کا اختیار ہے اور عدلیہ کو کمزور کرنا ملک کو جنگل میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے۔

یاد رہے کہ پانچ نومبر کو پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز یانی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ماضی میں ہم سب سے غلطیاں ہوئی ہیں بہتر یہی ہے کہ تمام فیصلے قانون پر چھوڑ دیں کیونکہ تمام لوگ قانون کی عمل داری پر یقین رکھتے ہیں۔

فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک پریس ریلیز میں انھوں نے کہا ہے کہ ’بہتر ہوگا کہ فیصلے قانون پر چھوڑے دیے جائیں‘۔

اور اسی روز چیف جسٹس نے اسلام آباد میں نیشنل مینیجمنٹ کالج کے طلبا اور اساتذہ سے خطابکرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ دن گئے جب ملکی استحکام اور سلامتی کا تعین ٹینکوں اور میزائلوں کی تعداد سے ہوا کرتا تھا۔

انھوں نے کہا تھا کہ آج قومی سلامتی کا تعین اپنے عوام کی ہر قیمت پر فلاح و بہبود اور ان کے قدرتی اور سماجی حقوق کے تحفط سے ہوتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔