صحافی ، دانشور اور اوباما

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 13:15 GMT 18:15 PST

( صحافی ) اگر رومنی جیت جاتا تو ؟؟؟

( دانشور ) تو اوباما یقیناً ہار جاتا ۔

( صحافی ) میرا مطلب ہے کہ خارجہ پالیسی میں کیا تبدیلی آتی ؟

( دانشور ) اتنی ہی تبدیلی آتی جتنی کوک پینے والے کو پیپسی میں آتی ہے ۔۔

(صحافی) ۔پاکستان کے لئے اوباما کی دوسری مرتبہ جیت کا کیا مطلب ہے ؟

( دانشور ) اس کا مطلب ہے کہ اوباما کو دوبارہ اسی پاکستان سے ڈیل کرنا پڑے گا ۔

( صحافی ) اور ڈرونز ؟

( دانشور ) جب تک حقانی نیٹ ورک تب تک ڈرونز ۔۔

( صحافی ) مگر حقانی نیٹ ورک تو کبھی کا ختم ہوچکا ۔

( دانشور ) بےوقوف میں واشنگٹن کی نہیں شمالی وزیرستان کی بات کر رہا ہوں ۔

( صحافی ) اچھا اچھا ۔۔۔ سمجھ گیا۔سمجھ گیا۔۔۔یہ بتائیے کہ کیا واقعی امریکہ دو ہزار چودہ میں افغانستان سے نکل جائے گا۔

( دانشور ) تاریخ بتاتی ہے کہ افغانستان واحد ملک ہے جس سے نکلنے کے لئے سکندر سے آج تک ہر قابض نے جو بھی تاریخ دی اس پر فوری عمل کیا ۔وہ کہتے ہیں نا ،

جو مجھے دیکھنے کو آتا ہے

پھر مجھے دیکھنے نہیں آتا

( صحافی )واہ واہ واہ۔۔ اچھا یہ بتائیے کہ کیا اوباما اپنی پہلی مدتِ صدارت کے برعکس اس مرتبہ مسلمان بالخصوص عرب دنیا کا دل و دماغ جیتے میں کامیاب رہیں گے۔

( دانشور) مسلمان خود اپنا دل و دماغ جیتنا کب سیکھیں گے ۔

( صحافی ) اسرائیل کے بارے میں اوباما کی پالیسی میں کسی بدلاؤ کا کوئی امکان ؟

( دانشور ) جی بالکل بدلاؤ آئے گا ۔پہلی مدت میں اوباما کی اسرائیل پالیسی تھی آ بیل مجھے مار ۔دوسری مدت میں پالیسی ہوگی ۔آ بیل مجھے نا مار ۔۔۔

( صحافی ) چین کے ساتھ تعلقات کی سمت کیا ہوگی ؟

( دانشور ) پہلی اوباما مدت میں امریکہ چین تعلقات افقی سے عمودی تھے۔دوسری مدت میں بھی یہ افقی سے عمودی ہی رہیں گے مگر عمودی سے افقی ہونے کے بعد جب یہ دوبارہ عمود کی طرف ۔۔۔۔۔

( صحافی ) میں آپ کی بات نہیں سمجھا ۔

( دانشور ) تو اوباما کون سا چین کو سمجھا ہے ؟

( صحافی ) بھارت امریکہ تعلقات کو آپ اگلے چار برس میں کہاں دیکھتے ہیں ؟

( دانشور ) مچان پر۔

( صحافی ) مچان پر تو شکاری ہوتا ہے۔

( دانشور ) تو میں کون سا کہہ رہا ہوں کہ شیر بھی مچان بناتا ہے۔

( صحافی ) تو بھارت اور امریکہ میں سے شیر کون ہے اور شکاری کون ؟

( دانشور ) یار ہر بات میں ہی بتاؤں کہ خود بھی دماغ کو تکلیف دو گے ؟

( صحافی ) چلیں یہ بتا دیں کہ اگلے چار برس میں امریکی معیشت کتنی اوپر جائے گی ؟

( دانشور ) جتنی باقی دنیا کی نیچے آئے گی ۔

( صحافی ) کیا مطلب ؟

( دانشور ) ابے گھامڑ ،

امیر زادوں سے دلی کے مت ملا کر میر

کہ ہم غریب ہوئے ہیں انہی کی دولت سے

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔