سوئس حکام کو خط بھجوا دیا گیا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 10:32 GMT 15:32 PST

عدالت نے آخری سماعت پر حکومت کو خط لکھنے کے لیے چار ہفتے کی مہلت دی تھی

پاکستان کی حکومت نے عدلیہ سے طویل قانونی تنازع کے بعد آخرکار سوئٹزرلینڈ کے حکام کو صدر آصف علی زرداری کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط بھیج دیا ہے۔

صدرِ پاکستان کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے بی بی سی کو بتایا کہ ایوان صدر کا اس خط سے کوئی تعلق نہیں لیکن یہ بات درست ہے کہ سپریم کورٹ اور حکومت کے درمیاں خط کے جس مسودے پر اتفاق ہوا تھا وہ حکومت نے بھجوا دیا ہے۔

ان کے بقول یہ خط پاکستان کی وزارت خارجہ نے سوئز حکام کو بھیجا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے آئین اور عالمی قوانین کے تحت صدرِ پاکستان کو استثنیٰ حاصل ہے۔

واضح رہے کہ انیس سو نوے کے انتخابات کے بعد قائم ہونے والی میاں نواز شریف کی حکومت نے کسٹم انسپیکشن کے ٹھیکوں میں سوئز کمپنیوں سے بارہ ملین ڈالر کمیشن لینے کے الزام میں بینظیر بھٹو، آصف علی زرداری اور دیگر پر مقدمات قائم کیے تھے۔

اُس وقت کی حکومت نے بعد میں سوئز حکام سے خط و کتابت کی اور سوئزرلینڈ میں مقدمات قائم ہوئے۔ لیکن سن دو ہزار سات میں جنرل پرویز مشرف اور بینظیر بھٹو میں سمجھوتے کے نتیجے میں قومی مصالحت آرڈیننس ’این آر او‘ جاری ہوا اور وہ مقدمات واپس لیے گئے۔

تین نومبر دو ہزار سات کو جب پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کی تو بینظیر بھٹو نے پرویز مشرف کے خلاف تحریک شروع کی اور سمجھوتہ ختم کر دیا۔ ستائیس دسمبر سن دو ہزار سات کو راولپنڈی میں جلسے کے بعد بینظیر بھٹو ایک حملے میں ہلاک ہو گئیں۔

دو ہزار آٹھ میں ان کی جماعت پیپلز پارٹی کی حکومت قائم ہوئی اور نومبر دو ہزار نو میں سپریم کورٹ نے ’این آر او‘ کو کالعدم قرار دیا اور حکومت سے کہا کہ وہ سوئز حکام کو مقدمات دوبارہ کھولنے کے لیے خط لکھیں۔

حکومت اور عدلیہ میں طویل قانونی تنازعہ چلا اور حکومت کہتی رہی کہ صدرِ پاکستان کو آئین اور عالمی قوانین کے تحت استثنیٰ حاصل ہے۔ اس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی نے اپنے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کو قربان کیا اور عدلیہ نے انہیں خط نہ لکھنے کے جرم میں توہین عدالت کے کیس میں نا اہل قرار دے دیا۔

لیکن اب حکومت مان گئی ہے اور سپریم کورٹ کی رضا مندی سے خط کا مسودہ تیار کر کے سوئز حکام کو بھیج دیا ہے۔ عدالت نے بارہ نومبر تک حکومت کو مہلت دے رکھی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔