امریکی انتخابات: پاکستان میں ملا جلا ردِ عمل

آخری وقت اشاعت:  بدھ 7 نومبر 2012 ,‭ 15:10 GMT 20:10 PST
براک اوباما

’اوباما عالمی اور علاقائی امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں‘

پاکستان کی سیاسی اور مذہبی جماعتوں نے براک اوباما کے دوبارہ صدر منتخب ہونے پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ بعض سیاست دان حالات میں بہتری کی توقع کر رہے ہیں جبکہ ایک سوچ یہ بھی ہے کہ امریکی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی۔

پاکستان میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے اہم رہنما راجہ محمد ظفرالحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ براک اوباما امریکہ اور مسلم دنیا کے درمیان پائی جانے والی خلیج کم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔

انھوں نے کہا کہ اب ان کے لیے موقع ہے کہ وہ امریکہ اور مسلم دنیا کے درمیان خلیج ختم کر سکتے ہیں اور اگر وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف خود امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے بہت بڑی کامیابی ہوگی اور یہ عالمی امن کے لیے بھی بہتر ماحول فراہم کرسکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر وہ کوشش کریں اور ان کو اچھے ساتھی میسر ہوں جیسے سیکریٹری آف سٹیٹ جو ان کی رائے کے ساتھ اتفاق رکھتے ہوں تو میرا خیال ہے کہ اس سمت بہت سفر طے کیا جاسکتا ہے اور کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے‘۔

جماعت اسلامی کے سربراہ سید منور حسن کے نزدیک براک اوباما کے دوبارہ صدر منتخب ہونے سے امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’امریکہ میں کوئی بھی صدر بنے پالسیاں سب کی ایک ہی رہتی ہیں، امریکہ کی بنیادی پالیسی تو امت مسلمہ اور اسلام کے خلاف ہے، وہ اسی طرح قرآن کو جلاتے رہیں گے، وہ اسی طرح سے پیغمر اسلام کے خاکے اور کارٹون بناتے رہیں گے، چاہیے اوباما ہوں یا کوئی۔ بہتر یہی ہے کہ ہم اپنے گھر کے حالات درست کریں اور امریکہ کی غلامی کو ترک کرکے آزاد خارجہ پالیسی اختیار کریں۔‘

پاکستان کے سابق وزیر خارجہ اور عمران خان کی تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی کو براک اوباما کے دوسرے دور حکومت سے امیدیں اور توقعات وابستہ ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’اوباما کو خاصہ تجربہ ہوچکا ہے، چار سال حکومت کی ہے، پہلے شاید وہ اس خطے کے حالات سے اس قدر زیادہ واقف نہ ہوں، لیکن اب تو ان کو عملی تجربہ ہے، اس خطے کے جتنے بھی کھلاڑی ہیں وہ ان سے ذاتی طور پر مل چکے ہیں، میں سمجھتا ہوں کہ دوسرے دور میں وہ زیادہ پر اعتماد طریقے سے آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں‘۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ صدر اوباما سے یہ توقع کی جارہی ہے کہ وہ عالمی اور علاقائی امن کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔