آئی ایس آئی مقدمہ، کس کو کتنی رقم ملی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 8 نومبر 2012 ,‭ 15:43 GMT 20:43 PST

اگر ثابت ہو جائے تو سیاست دانوں سے رقوم سود سمیت وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع کروائی جائیں: سپریم کورٹ

فوج اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کی طرف سے نوے کی دہائی میں سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم سے متعلق مقدمے کے تفصیلی فیصلے میں سپریم کورٹ نے ان تفصیلات کو بھی فیصلے کا حصہ بنایا ہے جن میں بتایاگیا ہے کہ کس سیاستدان کو کتنی رقم دی گئی۔

عدالت پہلے ہی اپنے مختصر فیصلے میں ایف آئی اے کو اس تمام معاملے کی تحقیقات کا حکم دے چکی ہے۔

سپریم کورٹ نے اُس ریکارڈ کو بھی اپنے تفصیلی فیصلے کا حصہ بنایا ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ سیاستدانوں کے علاوہ دیگر مقاصد کے لیے بھی رقوم استعمال کی گئیں۔

قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ کے رجسٹرار نےجمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں پڑھ کر سُنایا۔ عام طور پر کسی بھی مقدمے کا تفصیلی فیصلہ سپریم کورٹ کے میڈیا آفس کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے۔

صوبہ سندھ میں ملٹری انٹیلیجنس کے سابق سربراہ بریگیڈیئر ریٹائرڈ حامد سعید کے بیان کو بھی تفصیلی فیصلے کا حصہ بنایا گیا ہے جس کے مطابق سیاستدانوں میں رقوم کی تقسیم کے سلسلے میں چھ اکاؤنٹ کھلوائے گئے جن میں سولہ ستمبر اُنیس سو نوے سے بائیس اکتوبر انیس سو نوے کے دوران چودہ کروڑ روپے جمع کروائے گئے۔

جن میں سے اس وقت کے ڈی جی ملٹری انٹیلیجنس کی ہدایت پر سندھ کے متعدد سیاستدانوں اور دیگر افراد میں رقوم تقسیم کی گئیں۔ عام طور پر سیاستدان آئی ایس آئی سے رقوم وصول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

حامد سعید کے بیان کے مطابق جمع کروائے گئے چودہ کروڑ میں سے چار کروڑ روپے جی ایچ کیو کے اکاؤنٹ میں جبکہ ایک کروڑ پچاس لاکھ روپے ملٹری انٹیلیجنس کوئٹہ کے آفس کے اکاؤنٹ میں بھی جمع کروائے گئے جبکہ بقیہ رقم سود سمیت جی ایچ کیو بھجوا دی گئی۔

کس سیاستدان کو کیا ملا

  • غلام مصطفی جتوئی: پچاس لاکھ روپے
  • سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ جام صادق علی: پچاس لاکھ روپے
  • سابق وزیر اعظم
    محمد خان جونیجو: پچیس لاکھ روپے
  • عبدالحفیظ پیرزادہ: تیس لاکھ روپے
  • صبغت اللہ پیر پگارا: بیس لاکھ روپے
  • مظفر حسین شاہ: چھ لاکھ روپے
  • غلام علی نظامانی: تین لاکھ روپے
  • سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ ارباب غلام رحیم:
    دو لاکھ روپے
  • ہفت روزہ تکبیر کے چیف ایڈیٹر صلاح الدین: تین لاکھ روپے
  • یوسف ہارون: پانچ لاکھ روپے

فیصلے میں دی گئی دیگر تفصیلات کے مطابق سیاست دانوں میں رقوم کی تقسیم کے بعد باقی ماندہ رقم میں سے تین کروڑ روپے اُس وقت کے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ کی سروس کےآخری ایام میں اُن کی تنظیم ’فرینڈز‘ کو دیےگئے اور سابق آرمی چیف جنرل آصف نواز نے مرزا اسلم بیگ کی تنظیم کو تین کروڑ روپے منتقل کرنے پر سخت ناراضی کا اظہار بھی کیا تھا۔

تفصیلات میں کہا گیا ہے کہ چار کروڑ روپے کی رقم میں سے دو کروڑ روپے پنجاب اور دو کروڑ روپے صوبہ خیبر پختونخوا میں ایم آئی کے یونٹ کو بھجوا دیے گئے جبکہ صوبہ پنجاب اور خیبر پختون خوا کے سیاستدانوں میں جو رقوم تقسیم کی گئیں اُن کے بارے میں اُس وقت کے آرمی چیف مرزا اسلم بیگ، ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی اور ان صوبوں کی ملٹری انٹیلی جنس کے ارکان باخبر تھے۔

تفصیلی فیصلے میں یونس حبیب کے مہران بینک سیکنڈل میں تفتیش کے دوران دیےگئے بیان کا بھی ذکر کیاگیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اُنہوں نے مرزا اسلم بیگ کو چودہ کروڑ روپے دینے کے علاوہ سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ جام صادق کو سات کروڑ روپے، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو دو کروڑ روپے، جاوید ہاشمی کے علاوہ دیگر ارکان قومی اسمبلی کو پانچ کروڑ روپے دیے۔

اس کے علاوہ یونس حبیب کے بقول سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو سنہ نوے کی دہائی میں پچیس لاکھ روپے اور سنہ اُنیس سو ترانونے میں پینتیس لاکھ روپے دیے گئے۔ اس کے علاوہ اُنہوں نے سنہ اُنیس سو ترانوے میں بھی مختلف سیاست دانوں میں رقوم تقسیم کیں۔

انٹیلیجنس بیورو سے رقوم کا مقدمہ شروع

"سپریم کورٹ نے انٹیلیجنس بیورو نے سنہ دوہزار نو میں پنجاب حکومت ختم کر کے گورنر راج لگانے کے لیے انٹیلیجنس بیورو کے اکاؤنٹس سے ستائیس کروڑ روپے نکلوانے سے متعلق مقامی میڈیا میں آنے والی خبر کو درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے اس سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔"

سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے سنہ اُنیس سو چورانوے میں جو بیانِ حلفی دیا تھا اُس میں میاں نواز شریف کو پینتیس لاکھ روپے، جماعت اسلامی کو پچاس لاکھ روپے، ہمایوں مری کو پندرہ لاکھ روپے اس کے علاوہ بلوچستان کے دیگر سیاست دانوں کو بھی لاکھوں روپے دیے گئے۔ تاہم اسد درانی کے بقول اُن کے پاس دیگر دستاویزات نہیں ہیں جو اُن کے اس دعوے کو سچ ثابت کرنے میں معاون ثابت ہوسکیں۔

عدالت نے سنہ دوہزار نو میں پنجاب حکومت ختم کر کے گورنر راج لگانے کے لیے انٹیلیجنس بیورو کے اکاؤنٹس سے ستائیس کروڑ روپے نکلوانے سے متعلق مقامی میڈیا میں آنے والی خبر کو درخواست میں تبدیل کرتے ہوئے اس سماعت کے لیے منظور کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اس ضمن میں انٹیلی جنس بیورو کے سربراہ اور اٹارنی جنرل کو نوٹس جاری کیے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔