پشاور:خود کش حملہ آور تصویر جاری

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 8 نومبر 2012 ,‭ 16:25 GMT 21:25 PST

پاکستان کے صوبہ خیبر پختون خوا کی پولیس نے گزشتہ روز پشاور میں ایس پی انویسٹیگیشن ہلال حیدر کو ہلاک کرنے والے خودکش حملہ آور کی تصویر اشتہار کی شکل میں جاری کر دی ہے۔

جمعرات کو پشاور سے شائع ہونے والے تقریباً تمام مقامی اخبارات میں ایک اشتہار شائع کیاگیا ہے جس میں خودکش حملہ آور کے متعلق معلومات دی گئی ہے۔ اشتہار میں خودکش حملہ آور کی تصویر بھی دی گئی ہے۔

اشتہار میں کہاگیا ہے کہ موقع واردات سے خودکش کا سر ملا ہے جس کی تصویر شائع کی جا رہی ہے جبکہ اس بارے میں درست اطلاع دینے والے کو توصیفی اسناد اور نقد رقوم دی جائے گی۔

بدھ کو پشاور کے علاقے قصہ خوانی بازار میں کابلی پولیس سٹیشن کے سامنے ہونے والے خودکش حملے میں ایس پی تفتیش ہلال حیدر سمیت سات افراد ہلاک اور تیس کے قریب زخمی ہوئے تھے۔ ہلاک ہونے والوں میں پولیس افسر کے ڈرائیور اور محافظ بھی شامل تھے۔

اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان درہ آدم خیل کے ترجمان محمد نے قبول کرلی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ کارروائی ان کی گروپ کے شعبہ انتقام کی طرف سے کیا گیا ہے۔

پشاور میں کچھ عرصہ سے پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں میں ایک مرتبہ پھر شدت آ رہی ہے۔

پولیس پر حملے

پولیس کی طرف سے جاری کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق پچھلے پانچ سالوں کے دوران صرف ضلع پشاور میں ایک سو چوراسی پولیس اہلکار شدت پسندوں کی کاروائیوں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں عام اہلکار اور افسر دونوں شامل ہیں۔ صوبہ بھر میں مجموعی طورپر ایک اندازے کے مطابق اب تک آٹھ سو سے زائد پولیس اہلکار دہشت گردی کے کاروائیوں میں جان کی قربانی پیش کر چکے ہیں۔

پولیس کی طرف سے جاری کیےگئے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے پانچ سالوں کے دوران صرف ضلع پشاور میں ایک سو چوراسی پولیس اہلکار شدت پسندوں کی کارروائیوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان میں عام اہلکار اور افسر دونوں شامل ہیں۔ صوبہ بھر میں مجموعی طورپر ایک اندازے کے مطابق اب تک آٹھ سو سے زائد پولیس اہلکار دہشتگردی کی کارروائیوں میں جان کی قربانی پیش کر چکے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سنہ دو ہزار چار، دو ہزار پانچ میں جب پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو سب سے پہلے سکیورٹی اہلکاروں پر حملے شروع ہوئے۔ پھر جب رفتہ رفتہ یہ جنگ خیبر پختون خوا کے اضلاع تک پہنچنے لگی تو یہاں بھی سب سے پہلے اس کا نشانہ پولیس بنی۔

سوات میں جب طالبان نے حکومت کے خلاف بغاوت کا اعلان کیا تو انہوں نے بھی سب سے پہلے پولیس تھانوں پر حملوں کا آغاز کیا۔

پہلے ان حملوں میں نچلے رینک کے اہلکار ہلاک ہوتے تھے لیکن اب گزشتہ کچھ عرصہ سے ان واقعات میں ایس پی عہدے کے افسران نشانہ بن رہے ہیں۔ رواں سال کے دوران تین سینیئر سپرننڈنڈنٹ پشاور میں دہشتگردی کی کاروائیوں میں مارے جاچکے ہیں۔

پشاور میں ان حملوں میں ایسے وقت شدت آ رہی ہے جب حال ہی میں سکیورٹی فورسز نے شہر کے قریب واقع قبائلی علاقے باڑہ میں عسکری تنظیموں کے خلاف کاروائیوں کا آغاز کیا ہے۔

مورال میں کمی

ولیس افسروں پر حملوں میں تیزی آنے کی وجہ سے عام اہلکاروں میں شدید تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اعلی افسروں پر حملوں کی وجہ سے جنگ لڑنے والی نچلے رینک کے اہلکاروں کا مورال گر رہا ہے۔

ادھر پولیس افسروں پر حملوں میں تیزی آنے کی وجہ سے عام اہلکاروں میں شدید تشویش کی لہر پائی جاتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اعلی افسروں پر حملوں کی وجہ سے جنگ لڑنے والی نچلے رینک کے اہلکاروں کا مورال گر رہا ہے۔

اس بات کا اندازہ پشاور شہر میں چیک پوسٹوں پر فرائض سرانجام دینے والے اہلکاروں کے چہروں کو دیکھ کر بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔

خیبر پختون خوا میں دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتیں ایک ایسا اہم پہلو ہے جسے کسی بھی صورت نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

عام طورپر یہ کہا جاتا ہے کہ خودکش حملہ آوار کا کوئی توڑ نہیں ہوتا لیکن خیبر پختون خوا پولیس کے اہلکاروں نے متعدد مواقع پر جان کی پرواہ کیے بغیر خودکش حملہ آواروں کو روکنے کی کوشش کی اور ان کے منصوبوں کو ناکامی سے دوچار کیا ہے۔

سینیئر پولیس اہلکاروں کا کہنا ہے کہ صوبے میں کئی مرتبہ ایسا ہوچکا ہے کہ بہادر پولیس اہلکاروں نے خودکش حملہ آور سے بغل گیر ہوکر اس کو آگے جانے سے روکنے کی کوشش کی ہے۔

سنہ دو ہزار سات اور آٹھ میں پولیس اہلکار دہشت گرد حملوں کی وجہ سے زیادہ مشکلات کا شکار تھے تاہم ان تمام تر مشکلات کے باوجود وہ شدت پسندوں کو قابو کرنے میں کامیاب رہے تھے۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔