’پاکستان دو ذہنیتوں میں بٹ چکا ہے‘

آخری وقت اشاعت:  جمعـء 9 نومبر 2012 ,‭ 09:10 GMT 14:10 PST

لاہور کے علاقے شادمان میں فوارہ چوک کو بھگت سنگھ کے سے منسوب کرنے پر تنازعات پیدا ہوگئے

’قوم ایک نازک دور سے گزر رہی ہے’ یہ فقرہ تو اب پاکستان میں محاورہ بن چکا ہے اور اس کا تازہ ترین استعمال پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل کیانی نے اپنے بیان میں کیا ہے۔

ان کے بیان کے محرکات تناظر اور ممکنہ اثرات پر تو قومی سطح کے مبصرین ابھی اپنی رائے دینے میں مصروف ہیں لیکن گزشتہ چند ہفتوں میں ہمارے اردگرد کچھ ایسے واقعات ہوئے ہیں کہ اس بار لگتا ہے کہ ملک واقعی نازک دور سے گزر رہا ہے۔

اگر ایسا نہ ہوتا تو لاہور جیسے شہر میں جہاں بیسیوں شاہراہیں اور چوک ہیں وہاں ایک چوک کا نام تبدیل کرنے پر تنازع تو نہ کھڑا ہوتا۔

برطانوی سامراج کے خلاف علم بغاوت بلند کرنے پر شادمان کے فوارہ چوک میں بھگت سنگھ اور ان کے دو ساتھیوں کو تقریباً اکیاسی برس پہلے پھانسی دی گئی۔ کئی برس سے بھگت سنگھ کے چاہنے والے یہ مطالبہ کر رہے تھے کہ اس چوک کو برصغیر کی آزادی کے اس ہیرو کے نام سے منسوب کیا جائے۔

لاہور کی ضلعی حکومت نے بھگت سنگھ کے یوم پیدائش کے موقع پر یہ اعلان کیا تھا کہ فوارہ چوک کا نام تبدیل کرکے بھگت سنگھ چوک رکھا جائے گا لیکن ایسا کیسے ہوسکتا ہے ؟ اگر اس چوک کا نام محمود غزنوی، شہاب الدین غوری، محمد بن قاسم، غازی علم الدین یا کسی اور مسلم شخصیت کے نام پر رکھا جاتا تو بات بنتی تھی لیکن بھگت سنگھ ؟ کمال ہے۔

بھگت سنگھ چوک پر اعتراض کرنے والی جماعت الدعوۃ کے سیکرٹری اطلاعات کہتے ہیں ’آزادی کے لیے بھگت سنگھ کی جدوجہد سے انکار نہیں لیکن دنیا بھر اس وقت اسلام بمقابلہ نان اسلام کا تنازع چل رہا ہے پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے جہاں اسلامی نام، شخصیات اور نظریات کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اس لیے ان کی جماعت نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے۔‘

لیکن ضلعی حکومت کرے تو کیا کرے پھانسی تو اس چوک میں بھگت سنگھ کودی گئی تھی کسی مسلم شخصیت سے منسلک کرنے کی کوئی وجہ تو ہو اور مسلمان کون ہے یہ طے کرنا بھی تو باقی ہے ؟ بریلوی، دیوبندی، شیعہ، اہل حدیث یا اہل سنت؟

"بھگت سنگھ آزادی کے ہیرو تھے۔ وہ بہادری کی علامت ہیں۔ چوک کو ان کے نام سے منسوب کرنے پر تنازع کھڑا کرنا مناسب نہیں ـ اگر فوارہ چوک کا نام بھگت سنگھ رکھ دیا جائے تو اس میں کوئی ہرج نہیں۔"

شوکت بسرا

اسی مشکل کو سلجھاتے ہوئے جماعت الدعوۃ کی جانب سے تجویز دی گئی ہے کہ اس چوک کا نام حرمت رسول چوک رکھ دیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی بھی شخص خود کو مسلمان سمجھتا یا کہتا ہے اس کو تو اس تجویز پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔

لاہور کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر نورالامین مینگل کہتے ہیں’بھگت سنگھ کی تحریک آزادی کے لیے خدمات کو تو بانی پاکستان نے بھی تسلیم کیا تاہم اعتراض کے بعد اس معاملے کو قانون کے مطابق اخبارات میں مشتہر کرکے عوامی رائے مانگی گئی اس رائے کی روشنی میں متعلقہ کمیٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ چوک کا نام کیا رکھا جائے؟‘

اس کمیٹی میں مذہبی حلقوں کو بھی نمائندگی دی گئی۔ عمارتوں اور شاہراوں کے نام تبدیل کرنے والی کمیٹی کے سربراہ حسن محمود زیدی کہتے ہیں’چودہ نومبر کو کمیٹی اپنے اجلاس میں اتفاق رائے سے یہ فیصلہ کرے گی کہ چوک کا نام بھگت سنگھ چوک رکھا جائے گا یا نہیں۔‘

صوبہ پنجاب میں اسمبلی میں پاکستان پیپلزپارٹی کے نائب پارلیمانی لیڈر شوکت بسرا کا کہنا ہے کہ ’بھگت سنگھ آزادی کے ہیرو تھے۔ وہ بہادری کی علامت ہیں۔ چوک کو ان کے نام سے منسوب کرنے پر تنازع کھڑا کرنا مناسب نہیں ـ اگر فوارہ چوک کا نام بھگت سنگھ رکھ دیا جائے تو اس میں کوئی ہرج نہیں’۔

اس معاملہ پر دیگر سیاسی جماعتوں کا درعمل محتاط ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان شفقت محمود کا کہنا ہے کہ ’پارٹی میں بھگت سنگھ چوک کی تجویز کو زیر بحث نہیں لایا گیا ـ اس لیے اس تجویز کے حق یا مخالفت میں کچھ کہنا مناسب نہیں‘جبکہ پنجاب حکومت کے ترجمان وزیر رانا ثناءاللہ سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن جواب موصول نہ ہوا۔

"بھگت سنگھ کی تحریک آزادی کے لیے خدمات کو تو بانی پاکستان نے بھی تسلیم کیا تاہم اعتراض کے بعد اس معاملے کو قانون کے مطابق اخبارات میں مشتہر کرکے عوامی رائے مانگی گئی اس رائے کی روشنی میں متعلقہ کمیٹی یہ فیصلہ کرے گی کہ چوک کا نام کیا رکھا جائے؟"

لاہور کے ڈسرکٹ کوآرڈینیشن آفیسر نورالامین مینگل

لیکن اس تنازع کے بعد ذہن میں یہ سوال آتا ہے کہ آخر پاکستان کا نظریہ ہے کیا ؟ اور کیا محمد علی جناح اور پاکستان دو الگ الگ نظریوں کے نام ہیں؟ اسی لیے تو اب پاکستان کی ایک بڑی سیاسی جماعت کو اس معاملے پر بھی ریفریڈم کروانے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے کہ ’کیا آپ جناح کا پاکستان چاہتے ہیں یا طالبان کا۔‘

ناقدین اس ریفرنڈم کو بھی آڑے ہاتھوں لےرہے ہیں۔ ریفرنڈم پر تنقید کرنے والوں کی منطق یہ ہے بھلا یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے اب بھلا کون ہو گا جس کو جناح کے بجائے طالبان کا پاکستان مطلوب ہو۔ ایم کیو ایم اس ریفرنڈم سے سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتی ہے اور اس کا مقصد آئندہ انتخابات میں طالبان مخالف جذبات کا فائدہ اٹھا کر اپنے ووٹوں میں اضافہ کرنا ہے۔

شاید ایسا ہو بھی لیکن ملالہ پر حملے لاہور میں سکول کو نذر آتش کرنے اور فوارہ چوک کا نام تبدیل کرنے کا تنازع صرف ایک ماہ کے دوران اوپر تلے ہونے والے ایسے واقعات جن میں بظاہر کوئی ربط دکھائی نہیں دیتا اور جو واقعات مختلف حالات اور مختلف محرکات کے تحت پیش آئے ان کو سامنے رکھتے ہوئے یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت پاکستان واضح طور پر دو ذہنیتوں میں تقسیم ہوچکا ہے اور یہ تمام تنازع انھی دو ذہنیتوں کے درمیان ہے کچھ لوگوں کے لیے یہ اسلام بمقابلہ نان اسلام ہے اور تو کسی کے لیے جناح یا طالبان کا پاکستان۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔