دوہری شہریت: حتمی تاریخ تیس نومبر مقرر

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 18:42 GMT 23:42 PST

سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں کمیشن ان اراکین کی نشاندہی کرنے جا رہا ہے جن کی دوہری شہریت ہے

پاکستان کے الیکشن کمیشن نے دوہری شہریت رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کو حلف نامے جمع کرانے کے لیے دی گئی حتمی تاریخ میں تیس نومبر تک توسیع کر دی ہے۔

واضح رہے کے سپریم کورٹ کےاحکامات پر الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دوہری شہریت رکھنے والے ارکانِ اسمبلی کو 9 نومبر تک حلف نامے جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

اس توسیع کا فیصلہ پیر کو الیکشن کمیشن کے اسلام آباد میں ہونے والے دو روزہ اجلاس کے پہلے روز کیا گیا۔ اجلاس چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی صدارت میں ہوا۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ کئی ارکان اسمبلی کی درخواست کے بعد کیا گیا ہے۔

درخواست کے مطابق حج کے باعث بیرون ملک ہونے کی وجہ سے مقررہ تاریخ تک حلف نامے جمع کرانا ممکن نہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مقررہ ڈیڈ لائن تک مجموعی طور پر گیارہ سو ستر ارکانِ اسمبلی میں سے اٹھانوے ارکان نے حلف نامے جمع نہیں کرائے۔اس کےعلاوہ جن ارکان کے حلف نامے تصدیق شدہ نہیں انہیں حلف ناموں کی تصدیق کے لیے خط لکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے دوہری شہریت کے کیس میں کئی ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت منسوخ کرتے ہوئے الیکشن کمیشن کو تمام ارکان اسمبلی سے دوہری شہریت کے سلسلے میں تصدیق شدہ حلف نامے نو نومبر تک جمع کرانے کی ہدایت کی تھی۔

سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں کمیشن ان اراکین کی نشاندہی کرنے جا رہا ہے جن کی دوہری شہریت ہے۔ سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 61(1)(سی) کے تحت دوہری شہریت والے اراکین کو نا اہل قرار دیا ہے۔

اشتیاق احمد نے مزید کہا کہ سندھ اور پنجاب میں ضمنی انتخابات چار دسمبر تک ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ انتخابات کو محرم الحرام کی وجہ سے ملتوی کیا گیا ہے۔یہ انتخابات بالترتیب سترہ اور ستائیس نومبر کو ہونا تھے۔

سیکرٹری الیکشن کمیشن نے کہا کہ شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے اور اجلاس میں اس حوالے سے تیاریوں کو حتمی شکل دینے کے بارے میں تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

نئی حلقہ بندیوں کے بارے میں سیکریٹری الیکشن کمیشن کا کہنا تھا کہ اگر کہیں نیا ضلع بن گیا ہے تو اس کا مطلب انتظامی یونٹ میں تبدیلی ہوئی ہے جس پر کام ہو رہا ہے۔ کراچی میں نئی حلقہ بندیاں سپریم کورٹ کے حکم کی روشنی میں ہونا تھیں مگر اس حوالے سے ابتدائی کام سندھ حکومت کو کرنا ہے۔

الیکشن کمیشن نے عدالت کو آگاہ کر دیا ہے کہ جب تک صوبائی حکومت جغرافیائی اور حلقوں کی حدود کا تعین نہیں کرتی الیکشن کمیشن کچھ نہیں کر سکتا جس پر عدالت نے اب صوبائی حکومت سے رپورٹ مانگی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔