’فریال تالپور کی زندگی کو پنجاب میں خطرہ‘

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 12:15 GMT 17:15 PST

پاکستان کے نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل نے ایک خط کے ذریعے انکشاف کیا ہے کہ صدر زرداری کی ہمشیرہ اور رکن قومی اسمبلی فریال تالپور کی زندگی کو صوبہ پنجاب میں خطرہ لاحق ہے۔

نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل کی جانب سے گزشتہ ماہ کی چوبیس تاریخ کو جاری ہونے والے الرٹ نمبر 817 میں صدر آصف علی زرداری کے ملٹری سیکرٹری، وفاقی سیکرٹری دفاع، ملٹری انٹلیجنس، آئی ایس آئی کے ڈی جی سمیت سندھ اور پنجاب کے پولیس سربراہان کو اس خطرے سے آگاہ کیا ہے۔

اس الرٹ میں دعوٰی کیا گیا ہے کہ بااعتماد انٹلیجنس رپورٹس کے مطابق ایم این اے فریال تالپور کی زندگی کو انتہائی خطرات لاحق ہیں۔

اس حوالے سے منصوبہ بندی میں ملوث بعض دہشت گردوں کی شناخت ہو چکی ہے۔

لیٹر میں متعلقہ حکام کو تجویز پیش کی گئی ہے جب بھی فریال تالپور دورے پر آئیں تو سکیورٹی کے موثر انتظامات کیے جائیں اور اس اطلاع کو نظر انداز نہ کیا جائے۔

نیشنل کرائسز مینجمنٹ سیل نے نشاندہی کی ہے کہ فریال تالپور کو خاص طور پر وسطی اور جنوبی پنجاب میں خطرہ زیادہ ہے۔

تمام متعلقہ محکموں کو کہا گیا ہے کہ انہیں چوبیس گھنٹے سکیورٹی فراہم کی جائے تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

فریال تالپور کا پاکستان پیپلز پارٹی کی موجودہ سیاست میں سرگرم کردار ادا کر رہی ہیں، بینظیر بھٹو نے انہیں اپنی وصیت میں بلاول، بختاور اور آصفہ کا سرپرست بھی مقرر کیا تھا۔

اسی خط کی بنیاد پر فریال تالپور نے سندھ ہائی کورٹ میں ایک درخواست بھی دائر کردی ہے جس کی سماعت منگل کو متوقع ہے۔

آئینی درخواست میں فریال تالپور نے بینظیر بھٹو کی ہلاکت کا حوالہ دیا ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ پاکستان میں سیاسی رہنماؤں کو جانی اور مالی خطرات لاحق ہیں مگر انہیں ریاست مطلوبہ سکیورٹی فراہم نہیں کر رہی۔

فریال تالپور نے اپنی قومی اسمبلی رکنیت کے ساتھ پاکستان پیپلز پارٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ عوامی اجتماعات میں بھی شریک ہوتی ہیں، انہیں سیاہ شیشوں والی گاڑی کے استعمال اور نجی محافظ رکھنے کی اجازت دی جائے۔

درخواست میں عدالت سے اپیل کی گئی ہے کہ انہیں فیکڑی فٹیڈ سیاہ شیشے والی گاڑی کے استعمال، مسلح محافظ رکھنے اور انہیں ہمراہ سفر کرنے کی اجازت دی جائے اس کے علاوہ عوامی اجتماعات کے موقع پر بھی یہ محافظ ساتھ رکھنے کی اجازت ہو۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی مرحوم چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی وطن واپسی پر ان کے ساتھ بھی نجی محافظ ہوتے تھے اور ان کی موت راولپنڈی میں ایک جلسے سے واپسی پر کیے جانے والے ایک حملے کے نتیجے میں ہوئی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔