بلوچستان: ہزارہ برادری کے تین افراد ہلاک

آخری وقت اشاعت:  پير 12 نومبر 2012 ,‭ 17:54 GMT 22:54 PST

ہزارہ برادری پر بڑھتے ہوئے حملوں کے خلاف متعدد بار احتجاج کیا جا چکا ہے

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے علاقے مچھ میں حکام کے مطابق نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے ہزارہ برادری کے تین افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی نے مقامی پولیس افسر شیر احمد کے حوالے سے بتایا ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم مسلح افراد کی سبزی کی دو دکانوں پر فائرنگ کے نتیجے میں دو افراد ہلاک اور دو زخمی ہو گئے۔

پولیس حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق ہزارہ برادری سے تھا۔

کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں لوگ فرقہ وارانہ تشدد میں ہلا ک اور زخمی ہوئے ہیں جن میں سے سے زیادہ تر کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔

کوئٹہ اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں سنہ دو ہزار کے بعد بڑی تعداد میں لوگ فرقہ وارانہ تشدد میں ہلا ک اور زخمی ہوئے ہیں جن میں سے سے زیادہ تر کا تعلق ہزارہ قبیلے سے ہے۔

بلوچستان کی قوم پرست جماعت ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے رواں ماہ جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق اب تک قبیلے کے سات سو سے زائد افراد فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ان حملوں کی وجہ سے نہ صرف ہزارہ برادری کی جانب سے کئی بار احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں جبکہ حقوق انسانی کی تنظیمیں ان حملے پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہیں۔

بلوچستان کی حکومت نے ستمبر میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا تھا کہ رواں سال اب تک ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے ایک سو پانچ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔