چین میں نئی قیادت کے پاکستان سے تعلقات

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 00:22 GMT 05:22 PST

پاکستان اور چین کے مابین فوجی تعاون اور تعلقات کا آغاز سنہ انیس سو چھیاسٹھ سے ہوا

دنیا کی ابھرتی قوت چین میں سیاسی قیادت کی تبدیلی پر دنیا بھر کی نظریں لگی ہیں لیکن پاکستان میں سیاسی اور فوجی قیادت کو اطمینان اور امید بھی کہ نئی قیادت خطے کے بدلتے حالات کی وجہ سے ’پاک چین دوستی‘ مزید مضبوط ہوگی۔

پاکستان اور چین کے درمیاں سفارتی تعلقات تو انیس سو پچاس میں قائم ہوئے لیکن فوجی تعاون اور تعلقات کا آغاز سنہ انیس سو چھیاسٹھ سے ہوا۔ دونوں ممالک کے دفاعی تعاون کو تقریباً پانچ دہائیاں ہونے کو ہیں لیکن اس دوران یہ تعاون بڑھتا ہی رہا ہے۔

پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین اور سینیٹر سید مشاہد حسین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات آزمودہ اور پختہ ہیں اس لیے چین میں آنے والی نئی قیادت افغانستان اور خطے کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان سے تعلقات کو مزید گہرا اور مضبوط کرے گی۔

’سنہ انیس سو چھیاسٹھ سے انیس سو اسی تک چین پاکستان کو مفت اسلحہ دیتا رہا اور کیونکہ امریکی اسلحہ بند تھا اس وقت پاکستان کو اس کی شدید ضرورت تھی۔ چین کے فوجی تعاون کی انوکھی بات یہ ہے کہ وہ پاکستان کو دفاعی پیداوار میں اپنے پاؤں پر کھڑا کر رہا ہے جو مغرب سے نہیں ملتی۔‘

"انیس سو چھیاسٹھ سے انیس سو اسی تک چین پاکستان کو مفت اسلحہ دیتا رہا ہے اور اس وقت پاکستان کو شدید ضرورت تھی اور امریکی اسلحہ بند تھا۔ چین کے فوجی تعاون کی انوکھی بات یہ ہے کہ وہ پاکستان کو دفاعی پیداوار میں اپنے پاؤں پر کھڑا کر رہا ہے جو کہ مغرب سے نہیں ملتی"

سید مشاہد اعجاز سین، پاکستان چائنا انسٹی ٹیوٹ کے چیئرمین

انہوں نے بتایا کہ چین نے پاکستان کی فضائیہ کے لیے جے ایف 17 تھنڈر لڑاکا طیارے، بحریہ کے لیے سمندری جنگی جہاز اور بری فوج کے لیے الخالد جیسے ٹینک بنانے کی ٹیکنالوجی فراہم کی اور اب اس کی پاکستان میں پیداوار شروع ہے۔

چین میں نئی قیادت کا ابھی اعلان تو نہیں ہوا لیکن سید مشاہد حسین کہتے ہیں ’نئے لیڈر ژی جن پنگ ہوں گے۔ ان کے والد کمیونسٹ پارٹی کے سینئیر رہنما تھے اور ان کی بیگم چینی لبریشن آرمی کی جنرل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ جس طرح مغرب سے سیاسی اور اقتصادی قوت مشرق کی طرف تبدیل ہو رہی ہے اور کہتے ہیں کہ یہ ایشیا کی صدی ہے اور ابھرتا ہوا چین ہے تو نئی قیادت پاکستان سے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی۔‘

چین میں آنے والی نئی سیاسی قیادت کے بارے میں ایئر وائس مارشل (ریٹائرڈ) شہزاد چوہدری کہتے ہیں کہ اس سے چین اور پاکستان کے تعلقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کے بقول دونوں ممالک کے تعلقات آنے والے وقتوں میں مزید گہرے اور بہتر ہوں گے۔

شہزاد چوہدری کہتے ہیں کہ چین سے ملنے والا اسلحہ سستا ہوتا ہے اور اگر کوئی چیز نہیں ملتی تو وہ مشترکہ طور پر تیار کرتے ہیں جس میں کچھ مغربی اور کچھ چین کی ٹیکنالوجی شامل ہوتی ہے۔

"چین سے ملنے والا اسلحہ سستا ہوتا ہے اور اگر کوئی چیز نہیں ملتی تو وہ مشترکہ طور پر تیار کرتے ہیں جس میں کچھ مغربی اور کچھ چین کی ٹیکنالوجی شامل ہوتی ہے"

ایئر وائس مارشل (ر) شہزاد چوہدری

پاکستان اور چین کے سفارتی تعلقات کو باسٹھ سال ہو چلے ہیں لیکن اس دوران دونوں ممالک میں بظاہر کوئی سرد مہری نظر نہیں آئی۔ البتہ چین کو مسلمان آبادی والے صوبے سنکیانگ میں شدت پسند رجحانات بڑھنے اور اس کے تانے بانے پاکستان سے ملنے پر تشویش ضرور لاحق ہوئی ہے۔

اس بارے میں ایئر مارشل (ریٹائرڈ) شہزاد چوہدری کہتے ہیں کہ ایک تو سنکیانگ دیگر علاقوں کی نسبت ترقی یافتہ نہیں ہے اور وہاں پر لوگوں میں احساس محرومی ہے۔ ان کے بقول اس میں کوئی شک نہیں کہ سنکیانگ کے مسلمانوں نے شدت پسند رجحانات پاکستان سے لیے ہیں لیکن یہ اتنی بڑی بات نہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات بگڑ جائیں کیونکہ چین کو ادراک ہے کہ پاکستان خود بھی دہشت گردی کا شکار ہے۔

اس بارے میں سید مشاہد حسین کہتے ہیں کہ پاکستان نے چین کی تشویش دور کرنے کے لیے مناسب اقدامات کیے ہیں۔ ’ویگر کے دو رہنما پاکستان میں مارے گئے، ایک حسن معصوم دو ہزار تین میں مارے گئے جو کہ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے لیڈر تھے اور دو ہزار سات میں علی ترکستانی ڈرون حملے میں مارے گئے اور دو مواقع ایسے ہیں جب پاکستان نے شدت پسند گرفتار کر کے چین کے حوالے کیے۔‘

بعض مبصرین کہتے ہیں کہ چین پاکستان کا واحد دوست ملک ہے جس کے بارے میں پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی جماعتیں، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت یکساں رائے رکھتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں جمہوری حکومت ہو یا جرنیلی، چین پاکستان سے اپنے تعلقات میں کمی بیشی ہونے نہیں دیتا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔