خیبر پختونخوا:ناراض کارکنوں کو منانے کی کوششیں

آخری وقت اشاعت:  منگل 13 نومبر 2012 ,‭ 16:07 GMT 21:07 PST

پاکستان میں انتخابات سے پہلے سیاسی جماعتوں نے ناراض کارکنوں کو منانے اور ایسے ہم خیال امیدواروں سے رابطوں میں اضافہ کر دیا ہے جن کے آنے والے انتخابات میں کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔

صوبہ خیبر پختونخواہ میں پاکستان پیپلز پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ نے اپنے ان امیدواروں سے رابطے کیے ہیں جنہوں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی میں صوبائی صدر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انور سیف اللہ خان نے ناراض کارکنوں کو منانے اور ان کی شکایتوں کا ازالہ کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ گزشتہ دنوں انور سیف اللہ خان نے سابق صوبائی وزیر افتخار جھگڑا اور دیگر رہنماؤں سے رابطے کیے ہیں۔

یہ ملاقات نوشہرہ کے قریب ایک سیاسی رہنما کی رہائش گاہ پر ہوئی ہے جہاں افتخار جھگڑا کے علاوہ دیگر ایسے رہنما بھی موجود تھے جو پیپلز پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے تھے۔

اب تک افتخار جھگڑا نے اس بارے میں کوئی واضح اعلان نہیں کیا ہے کہ آیا وہ واپس پیپلز پارٹی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں یا تحریک انصاف کا حصہ رہیں گے۔

افتخار جھگڑا نے گزشتہ سال نومبر میں تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا تھا اور ان کے آبائی علاقے جھگڑا میں عمران خان نے ایک بڑے جلسہ عام سے خطاب کیا تھا۔

افتخار جھگڑا نے سنہ دو ہزار دو کے انتخابات میں صوبائی اسمبلی کے حلقہ کے پی نو سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن سنہ دو ہزار آٹھ کے انتخاب میں انتہائی کم ووٹوں سے ہار گئے تھے۔

رہنماؤں کو منانے کی کوشش

اس وقت پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے قائدین تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے اپنے سابق رہنماؤں کو منانے کی کوششوں میں ہیں لیکن تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ کہ انتخابات سے پہلے ایک مرتبہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کا اعلان ہونے دیں تمام سیاسی جماعتوں سے بڑی بڑی شخصیات تحریک انصاف کا رخ کریں گی اور دنیا پھر سونامی دیکھے گی۔

تحریک انصاف میں عمران خان کے مشیر شوکت علی یوسفزئی نے بی بی سی کو بتایا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ افتخار جھگڑا ان کی جماعت چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف میں صرف وہ رہنما یا کارکن رہ سکتے ہیں جو نظریے کے تحت جماعت میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں یا کر رہے ہیں۔

شوکت یوسفزیی کے مطابق پیپلز پارٹی کے کارکن جماعت کی پالیسیوں سے نالاں ہیں اور ایسے وقت میں کون ہو گا جو پی پی میں جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ انور سیف اللہ ان امیدواروں کو سبز باغ دکھا رہے ہیں جن کی انتخابات میں کامیابی کے روشن امکانات ہیں۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ پیپلز پارٹی کی صوبائی قیادت نے سابق وزیر پرویز خٹک اور یاسین خلیل سے بھی بالواسطہ طور پر رابطے کیے ہیں لیکن انہوں نے دوبارہ پی پی پی میں جانے سے انکار کیا ہے۔

شوکت یوسفزئی نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام (ف) نے بھی اعظم سواتی سے پھر رابطے کیے ہیں کہ وہ تحریک انصاف چھوڑ کر واپس جے یو آئی میں آجائیں۔

اعظم سواتی نے جمعیت علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کی پالیسیوں سے ناراض ہو کر تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔

اعظم سواتی کے بھائی لائق خان اب بھی علمائے اسلام فضل الرحمان گروپ کے رکن قومی اسمبلی ہیں اور اعظم سواتی سے انہی کے توسط سے رابطے استوار کیے گئے ہیں۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سابق صوبائی وزیر آصف اقبال نے بی بی سی کو بتایا کہ جمعیت کے دروازے تمام افراد کے لیے کھلے ہیں اور ان کے لیے بھی جو جماعت چھوڑ کر چلے گئے تھے اور اب اگر واپس آنا چاہیں تو انھیں خوش آمدید کہا جائے گا لیکن یہ درست نہیں ہے کہ جمعیت ان ناراض ارکان کو منانے کی کوشش کر رہی ہے۔

افتخار جھگڑا کے آبائی علاقے میں تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے جلسے سے خطاب کیا تھا

آصف اقبال کے مطابق ’صوبے کے جنوبی اضلاع سے بڑی تعداد میں اہم رہنماوں نے جمعیت علماء اسلام میں شمولیت کا اعلان کیا ہے ان میں لکی مروت سے منور خان اور ظفر اللہ مروت ہیں جبکہ کوہاٹ سے سابق صوبائی وزیر شاد محمد کے بیٹے نے جمعیت میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ دیگر علاقوں میں بھی بڑی شخصیات جمعیت میں شمولیت کا اعلان کرنے والی ہیں جس کا اعلان بعد میں کیا جا ئے گا۔‘

اس وقت پیپلز پارٹی اور جمعیت علماء اسلام (ف) کے قائدین تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے اپنے سابق رہنماؤں کو منانے کی کوششوں میں ہیں لیکن تحریک انصاف کے رہنما شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ کہ انتخابات سے پہلے ایک مرتبہ اسمبلیاں تحلیل ہونے کا اعلان ہونے دیں تمام سیاسی جماعتوں سے بڑی بڑی شخصیات تحریک انصاف کا رخ کریں گی اور دنیا پھر سونامی دیکھے گی۔

انتخابات سے پہلے یہ ایسا موسم ہے جس میں کارکن اور رہنما ناراض بھی ہوتے ہیں اور انہیں منانے کے لیے سر توڑ کوششیں بھی کی جاتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان دنوں انتخابی حلقوں میں سیاسی گہما گہمی بڑھنے لگتی ہے۔

سیاسی رہنما ان دنوں میں علاقوں میں شادی بیاہ اور فاتحہ خوانی کے لیے ضرور گھر گھر جاتے ہیں جہاں ان کا مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ انتخابات میں اپنے لیے ووٹ یقینی بنائیں۔

اسی بارے میں

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔