’کراچی میں8500 پکڑے لیکن نہ مقدمہ نہ سزا‘

آخری وقت اشاعت:  منگل 13 نومبر 2012 ,‭ 07:50 GMT 12:50 PST

پاکستان کے سینیٹ نے پیر کو بلوچستان، کراچی اور گلگت بلتستان میں امن و امان، ٹارگٹ کیلنگ اور فرقہ واریت کے حوالے سے پر بحث کی۔

پاکستان کی سینیٹ میں سنیٹر سید مشاہد حسین نے ملک کے امن ومان پر بحث کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں 8500 لوگوں کو جرائم کے مخلتف الزامات کے تحت پکڑا گیا لیکن نہ تو کسی پر مقدمہ چلایا گیا اور نہ کسی کو سزادی گئی۔

انھوں نے کہا کہ خرب امن و عامہ کی صورت حال ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور کراچی، بلوچستان اور کوئٹہ میں خراب حالات کی وجہ قانون نافد کرنے والے اداروں کی نا کامی ہے۔

انھوں نے خبردار کیا کہ کوئٹہ میں صرف ہزارہ کمیونٹی کا ٹارگٹ کیلنگ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ انھوں نے خدشہ ظاہر کیا کے اس کا آئندہ انتخابات پر بھی اثر ہوگا۔

پاکستان کے سینیٹ نے پیر کو بلوچستان، کراچی اور گلگت بلتستان میں امن و امان، ٹارگٹ کیلنگ اور فرقہ واریت کے حوالے سے بحث کی۔

سینیٹر طاہر حسین مشہدی کی طرف سے پیش کردہ قرارداد پر بحث کرتے ہوئے جمعیت علما اسلام کے مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ کراچی میں امن وامان کی صورت حال دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جامعہ احسن العلوم کے طلباء دہشت گردی کا نشانہ بنے لیکن نہ تو کسی نے اس کا نوٹس لیا اور نہ قاتلوں کو پکڑا گیا۔

مولاناعبدالغفور حیدری نے کہا کہ اس سے پہلے رینجرز نے کراچی کے ایک مدرسے اشرف المدارس پر بغیر کسی وجہ کے چھاپہ مارا۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ اس قسم کے واقعات نہیں ہونے چاہئیے۔

بحث میں حصہ لیتے ہوئے عوامی نیشنل پارٹی کے زاہد خان نے کہا کہ کراچی، کوئٹہ اور گلگت بلتستان میں قتل و غارت کو روکا جائے۔ انھوں نے کہا کہ عاشورہ سے پہلے کراچی کو اسلحہ سے پاک کیا جائے اور تمام سیاسی جماعتوں کو ٹارگٹ روکنے کی حمایت کرنی چاہیے۔

سینیٹر محسن لغاری نے بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کو رینجرز سے مدد لینے کے بجائے پولیس کو مضبوط کرنا چاہیے۔ انھوں نے مشورہ دیا کہ پولیس کی نفری بڑھانی چاہیے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔