چوک بھگت سنگھ سے منسوب کرنے پر احتجاج کی دھمکی

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 17:27 GMT 22:27 PST

لاہور میں عمارتوں اور شاہراوں کے نام تبدیل کرنے والی کمیٹی نے متفقہ طور پر شادمان کے فوارہ چوک کا نام آزادی ہند کی انقلابی شخصیت بھگت سنگھ سے منسوب کرنے کی منظوری دے دی ہے۔

ادھر مذہبی جماعتوں کے اتحاد تحریک حرمت رسول نے چوک کا نام حرمت رسول چوک رکھنے کا اعلان کیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اگر چوک کا نام بھگت سنگھ کے نام پر رکھنے کی کوشش کی گئی تو اس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔

لاہور کے ثقافتی اثاثے کی بحالی کے لیے’دلکش‘ کے نام سے قائم کمیٹی نے اپنے اجلاس میں جہاں شہر بھر کے تقریباً پچیس انڈر پاسز، شاہراوں اور چوکوں کے نام تبدیل کر کے خطے کی معروف سیاسی سماجی علمی اور مذہبی شخصیات کے نام پر رکھنے سے اتفاق کیا وہیں متفقہ طور پر شادمان کے فوارہ چوک کا نام بھگت سنگھ سے منسوب کرنے کی منظوری بھی دی۔

’دلکش‘ کی رکن سلیمہ ہاشمی کے مطابق کہ ’ہر شعبے کے لوگ جن میں علمائے کرام بھی شامل تھے کہ انہوں نے تائید کی کہ یہ بالکل صحیح نام ہے ـ لیکن یہ واحد موضوع نہیں تھا آج سب ناموں پر سب ہی لوگ متفق تھے جن میں یہ نام بھی تھا‘۔

فوارہ چوک کو بھگت سنگھ سے منسوب کرنے کا اعلان لاہور کے ڈسٹرکٹ کوآرڈینشن افسر نور الامین مینگل نے چند ہفتے پہلے بھگت سنگھ کے یوم پیدائش کے موقع پر کیا تھا۔ تاہم مذہبی تنظیم جماعت الدعوۃ کے اعتراض پر قانون کے مطابق اس فیصلے کو عوامی رائے کے لیے اخباروں میں مشتہر کر کے اسے شہر میں عمارتوں اور چوکوں کے نام تبدیل کرنے والی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا تھا۔

لاہور سے ہماری نامہ نگار کے مطابق ڈی سی لاہور نورالامین مینگل کا کہنا ہے کہ ’اعتراضات تو آئے تھے اسی لیے ہم نے اس معاملے کو کمیٹی کے سامنے رکھا۔ کمیٹی میں بڑے قد کاٹھ کے لوگ تھے جہنوں یہ کہا کہ اقلیتوں کا یہ حق بنتا ہے پاکستان صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ یہاں عیسائی بھی آباد ہیں ہندو بھی آباد ہیں اور سکھ بھی‘۔

تاہم مذہبی جماعتیں اس بات سے مطمئن نہیں ہیں۔ لاہور میں تحریک حرمت رسول میں شامل مذہبی تنظیموں کے راہنماؤں نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے نہ صرف فوارہ چوک کا نام حرمتِ رسول چوک رکھنے کا اعلان کیا بلکہ یہ مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کی دھمکی بھی دے دی ـ

"اعتراضات تو آئے تھے اسی لیے ہم نے اس معاملے کو کمیٹی کے سامنے رکھا۔ کمیٹی میں بڑے قد کاٹھ کے لوگ تھے جہنوں یہ کہا کہ اقلیتوں کا یہ حق بنتا ہے پاکستان صرف مسلمانوں کا نہیں بلکہ یہاں عیسائی بھی آباد ہیں ہندو بھی آباد ہیں اور سکھ بھی۔"

نورالامین مینگل

تحریک حرمت رسول کے چیئرمین امیر حمزہ نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’اس چوک کا نام ہم بھگت سنگھ چوک نہیں رکھنے دیں گے اگر وہ اس سے باز نہ آئے تو ہم تحریک بھی چلائیں گے ـ میں حکمرانوں کو کہتا ہوں کہ وہ اس سے باز آجائیں یہ ملک اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بنا ہے‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔