لاہور:توہین مذہب کا ملزم ضمانت پر رہا

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 17:28 GMT 22:28 PST

توہین مذہب کے مبینہ واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے سکول کی عمارت پر حملہ کر کے توڑپھوڑ کی تھی اور املاک کواگ لگادی تھی۔

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں توہین مذہب کے الزام میں گرفتار نجی سکول کی پرنسپل عاصم فاروقی کو جیل سے رہا کردیا گیا ہے۔

ان کی رہائی کا حکم لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس صغیر احمد قادری نے درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے دیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے حکم دیا کہ عاصم فاروقی کو دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض جیل سے رہا کردیا جائے۔

سماعت کے دوران وکیل صفائی جواد اشرف نے یہ موقف اختیار کیا کہ عاصم فاروقی کا اس مقدمہ سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے اور مقدمے میں ان کے موکل کا کوئی کردار ثابت نہیں ہوا۔

وکیل صفائی نے موقف اختیار کیا کہ ان کے موکل عمر رسیدہ ہونے کے ساتھ عارضہ قلب میں مبتلا ہیں اس لیے ان کا جیل میں رہنا ان کی صحت کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔

لاہور پولیس نے راوی روڈ پر واقع نجی سکول کے پرنسپل عاصم فاروقی اور خاتون ٹیچر کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ درج کیا تھا ۔ خاتون ٹیچر پر الزام ہے کہ انہوں نے ایک طالبہ کو ایسے پرچے کی فوٹی کاپی تقسیم کی جس پر توہین آمیز کلمات لکھے گئے تھے۔

پولیس نے اکتیس اکتوبر کو سکول کے پرنسپل عاصم فاروقی کو گرفتارکیا تھا جبکہ خاتون ٹیچر ارفع افتخار روپوش ہیں۔

اس سے پہلے مقامی عدالت نے سکول پرنسپل کی درخواست ضمانت مسترد کردی تھی جس پر انھوں نے اپنی رہائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

توہین مذہب کے مبینہ واقعہ کے بعد مشتعل افراد نے سکول کی عمارت پر حملہ کر کے توڑپھوڑ کی تھی اور املاک کو آگ لگادی تھی۔

ادھر دس روز کے بعد نجی سکول کو دوبارہ کھول دیاگیا ہے اور سکول کی عمارت کے ان حصوں کی بحالی کا کام جاری ہے جن کو مشتعل افراد نے حملے کے دوران جلایا تھا۔

نجی سکول کے پرنسپل عاصم فاروقی کے بیٹے سمیر فاروقی نے بی بی سی کو بتایا کہ سکول کی اساتذہ اور عملہ وہی ہے تاہم اب سکول ضلعی انتظامیہ کی طرف سے بنائی گئی کمیٹی کے زیر نگرانی چلایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب لاہور پولیس نے نجی سکول پر مشتعل افراد کے حملہ کے دوران وہاں ڈھائی کروڑ روپے لوٹنے والے چار ملزموں کو گرفتار کرکے ان سے رقم برآمد کرلی ہے۔عاصم فاروقی کے بیٹے سمیر فاروقی نے بتایا کہ لوٹی ہوئی رقم کی واپسی کے لیے قانونی چارہ جوئی کی جارہی ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔