کراچی: کالعدم تنظیم کے چار کارکن گرفتار

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 01:10 GMT 06:10 PST

پاکستان کے سب سے بڑے شہرکراچی میں سی آئی ڈی پولیس نے چار مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے ان کا تعلق لشکر جھنگوی سے ظاہر کیا ہے تاہم لشکر جھنگوی نے اسے مسترد کر دیا ہے۔

ایس پی سی آئی ڈی چوہدری اسلم نے منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس نے خفیہ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے شہر کے مختلف علاقوں سے چار ملزمان محمد آصف حسین عرف عبداللہ، محمد یاسین عرف یارو، حافظ محمد مبارک عرف عمر اور حضرت علی عرف علی مرتضیٰ کو گرفتار کیا۔

پولیس کے مطابق ملزمان سے دو کلاشنکوف، چار دستی بم، تین ٹی ٹی پستول، ایک نائن ایم ایم پستول، پچاس کلو دھماکہ خیز مواد اور دس فٹ دھماکہ خیز تار قبضے میں لی گئی ہے۔

چوہدری اسلم کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق کالعدم لشکر جھنگوی آصف چھوٹوگروپ سے ہے اور انہوں نے ابتدائی تفتیش میں فرقہ وارانہ وارداتوں میں پندرہ سے زائد افراد کو قتل کر نے کا انکشاف بھی کیا ہے۔

انہوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ ملزمان تنظیم کے لیے فنڈز جمع کرتے ہیں جس کے لیے وہ ڈکیتی کی اسی سے زائد وارداتوں میں بھی ملوث ہیں۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ وہ محرم الحرام سے قبل شہر میں فرقہ وارانہ فساد پھیلانے کے لیے بم دھماکے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

دوسری جانب لشکر جھنگوی نے چوہدری اسلم کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے گرفتار ملزمان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔

تنظیم کے ترجمان علی سفیان کے مطابق اغواء اور ڈکیتی سے لشکر جھنگوی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔

ترجمان کے مطابق یہ لوگ بعض دفعہ بے گناہ نوجوانوں کو گرفتار کرکے لشکر کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔