کشمیر: ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ کا انعقاد

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 01:10 GMT 06:10 PST

ٹی ٹوئنٹی کرکٹ کی مقبولیت بڑھتے بڑھتے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بھی پہنچ گئی ہے۔

ایک ایسے علاقے میں جہاں سہولیات کے فقدان کے سبب اب تک کھیلوں کی سرگرمیاں فروغ نہ پاسکیں، دارالحکومت مظفرآباد میں ایک ماہ تک جاری رہنے والا کرکٹ ٹورنامنٹ ایک اہم واقعہ ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی وزارتِ کھیل کے زیرِ اہتمام ٹی ٹوئنٹی کرکٹ ٹورنامنٹ میں ساٹھ سے زیادہ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

دن کے وقت کھیلا جانے والا یہ کرکٹ ٹورنامنٹ حال ہی میں تیار ہونے والے بین الاقوامی معیار کے کرکٹ گراونڈ میں جاری ہے۔

اگرچہ کشمیر میں کھیلوں کی وزرات ایک عرصے سے قائم ہے لیکن اس ایونٹ کا سہرا مقامی وزیر کھیل سلیم بٹ کے سر جاتا ہے۔

"پاکستان سمیت ایشیا میں کرکٹ دیکھی اور کھیلی جاتی ہے۔ کشمیر میں بھی لوگ کرکٹ کو پسند کرتے ہیں۔ ہم کرکٹ کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ آئندہ سال مارچ اپریل میں ہم اس پوزیشن میں ہوں گے کہ مقامی سطح پر قومی چیمپئین شپ کرائیں۔ ہمارا اگلا ٹارگٹ قومی ٹیم کی تشکیل ہے۔"

کشمیر کے وزیر کھپیل سلیم بٹ

سلیم بٹ کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کی کرکٹ میں دلچسپی دیکھ کر وہ یہ ٹورنامنٹ کروا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا ’پاکستان سمیت ایشیا میں کرکٹ دیکھی اور کھیلی جاتی ہے۔ کشمیر میں بھی لوگ کرکٹ کو پسند کرتے ہیں۔ ہم کرکٹ کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ آئندہ سال مارچ اپریل میں ہم اس پوزیشن میں ہوں گے کہ مقامی سطح پر قومی چیمپئین شپ کرائیں۔ ہمارا اگلا ٹارگٹ قومی ٹیم کی تشکیل ہے اور مجھے امید ہے کہ قومی چیمپئین شپ کرانے کے بعد مئی میں ہم قومی ٹیم تشکیل دے سکیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا ’ہمار ہدف یہ ہے کہ ہر ضلع میں کم از کم ایک ایسا سٹیڈیم ہو جہاں بین الاقوامی معیار کی پچ ہو،بھمبھر اور کوٹلی میں بھی سٹیڈیمز تیار ہو چکے اور وہاں پچیں تیار کرنے کا کام باقی ہے اسی طرح دوسرے اضلاع میں بھی سٹیڈیمز تیار ہو رہے ہیں۔‘

وزیر کھیل کا کہنا ہے کہ انھیں صرف دو اضلاع وادی نیلم اور حویلی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ وہاں پر بڑے گروانڈز نہیں ہیں۔

مظفرآباد میں گزشتہ اتوار کو شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ کے افتتاحی تقریب میں ہزاروں افراد نے شرکت کی جن میں بچے، خواتین اور مرد شامل تھے۔
اس موقع پر غیر معمولی طور پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا اپنا قومی ترانہ بھی گایا گیا۔

کھلاڑی ٹورنامنٹ میں اپنی شمولیت پر خوش تو ہیں لیکن وہ چاہتے میں ان سہولتوں میں اور اضافہ کیا جائے۔

کرکٹ ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والے کھلاڑی اعجاز نقوی کہتے ہیں ’یہاں مزیدگراونڈ، تربیت گاہ اور بہترین کوچز ہونی چاہیں، کھلاڑیوں کو سپانسرشپ ملنی چاہیے، یہاں سہولیات کا فقدان ہے۔،

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے انتظامی طور پر پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کو راولپنڈی ریجن کے ساتھ رکھا ہوا ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کا علیحدہ ریجن بنایا جائے۔

کرکٹ کی ترقی اور فروغ کے لیے پی سی بی نے سنہ دو ہزار میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی انیس برس سے کم عمر کی ٹیم اور سینئیر ٹیم کو ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی تھی۔

کشمیر کے اس خطے میں بین الاقوامی معیار کے دو کرکٹ سٹیڈیمز ہیں جن میں سے ایک میر پور میں جبکہ دوسرا حال ہی میں مظفرآباد میں تیار کیا گیا۔

پاکستان اور کئی دیگر ملکوں کی طرح یہاں کے نوجوانوں اور بچوں میں کرکٹ بہت زیادہ مقبول کھیل ہے۔

پاکستان کے کئی علاقوں کی طرح کشمیر میں بھی سکولوں کے بچے کھیل کے میدانوں کی کمی کے باعث گلیوں اور سڑکوں پر کرکٹ کھیلنے پر مجبور ہیں۔

مقامی حکام کہتے ہیں کہ اس خطے میں نوجوانوں میں صلاحیت موجود ہے لیکن سہولیات کے فقدان کی وجہ سے کرکٹ پنپ نہیں سکی۔

مقامی نوجوانوں کا کہنا ہے کہ کرکٹ ایک مہنگا کھیل ہے اس کے لیے گیند بلا کافی نہیں بلکہ پیڈ اور ہاتھوں کے دستانے اور دوسرا حفاظتی سامان بھی درکار ہوتا ہے۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔