’سیاسی جماعتوں کا اندرونی ڈھانچہ آمرانہ‘

آخری وقت اشاعت:  بدھ 14 نومبر 2012 ,‭ 16:29 GMT 21:29 PST

مسلم لیگ ن پر ہمیشہ سے یہ تنقید ہوئی ہے کہ اس کی قیادت پر صرف شریف برادران کی اجارہ داری ہے

پاکستان میں عام انتخابات قریب ہیں اور تمام سیاسی جماعتیں اس فکر میں ہیں کہ اپنی خوبیوں کو اجاگر کریں اور ان کی خامیوں پر پردہ پڑا رہے لیکن اس موقع پر ایک تحقیقی مقالے میں یہ نشاندہی کی گئی کہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کا اندرونی ڈھانچہ آمرانہ ہے۔

لاہور کی یونورسٹی لمز کے سیاسیات کے استاد ڈاکٹر محمد وسیم نے اس تحقیقاتی رپورٹ میں پاکستان کی چوبیس سیاسی پارٹیوں کے انتظامی ڈھانچے کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور خصوصاً ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے انتظامی ڈھانچے میں موجود سقم اور خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔

اس تحقیقی رپورٹ میں چند بڑی سیاسی جماعتوں میں پارٹی رہنماؤں کے مکمل کنٹرول اور پارٹی کے اندر انتخابات نہ کرانے کے غیر جمہوری رویے کو کھنگالا گیا اور بتایا گیا کہ دنیا کی دوسری جمہوریتوں کے برعکس پاکستان میں سیاسی پارٹیوں کی قیادت ایک شخصیت یا ایک خاندان کے گرد گھومتی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پارٹی کے اندر اہم فیصلوں میں پارٹی قیادت کی خواہش کو ترجیح دی جاتی ہے۔

لاہور میں ہماری ناامہ نگار کے مطابق اس تحقیقاتی رپورٹ کی تقریب رونمائی کے موقع پر ڈاکٹر محمد وسیم کا کہنا تھا کہ ’ہم جائزہ لینا چاہتے تھے کہ یہ کونسے ایسے سیاسی اداکار ہیں جو پاکستان کے سٹیج پر اپنا اپنا کردار نبھاتے ہیں‘۔

ڈاکٹر وسیم کے مطابق لوگوں کو ان سیاسی جماعتوں کا علم تو ہے لیکن بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ ان سیاسی جماعتوں میں تنظیم سازی کس طرح ہوتی ہے، ان میں فیصلے کون کرتا ہے۔ کون امید وار چنتا ہے اور پارٹی کے رہنماؤں کا کردار کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیکھا گیا کہ چند سیاسی جماعتوں میں پارٹی کے مرکزی رہنماؤں اور مقامی رہنماؤں میں رابطے کا فقدان ہے۔

"تبدیلی برائے تبدیلی کے لیے تو کسی پارٹی کی مقبول قیادت کو نہیں ہٹایا جا سکتا۔سیاسی جماعت کو عوام کی ترجمانی کرنا ہوتی ہے اور جو رہنما عوام میں مقبول ہوتا ہے اسے ہی پارٹی کی قیادت دی جاتی ہے۔"

احسن اقبال

ڈاکٹر وسیم نے بتایا کہ انہوں نے اس تقریب میں پاکستان کی حکمران جماعت پیپلز پارٹی سمیت دیگر بڑی جماعتوں کے نمائندوں کو مدعو کیا تاکہ رپورٹ میں ان کی جماعت کے انتظامی ڈھانچے کی جو تصویر کشی کی گئی ہے اس پر اپنا مؤقف دیں لیکن افسوس ناک بات یہ ہے کہ پیپلز پارٹی،مسلم لیگ ق اور تحریک انصاف کی جانب سے کوئی نہیں آیا تاہم مسلم لیگ (ن) کی جانب سے جماعت کے سیکرٹری جنرل احسن اقبال اپنی جماعت کے دفاع کے لیے پہنچے۔

مسلم لیگ ن پر ہمیشہ سے یہ تنقید ہوئی ہے کہ اس کی قیادت پر صرف شریف برادران کی اجارہ داری ہے۔ احسن اقبال نے اس تاثر کو زائل کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا کہ ’تبدیلی برائے تبدیلی کے لیے تو کسی پارٹی کی مقبول قیادت کو نہیں ہٹایا جا سکتا‘۔

انہوں نے کہا کہ ’سیاسی جماعت کو عوام کی ترجمانی کرنا ہوتی ہے اور جو رہنما عوام میں مقبول ہوتا ہے اسے ہی پارٹی کی قیادت دی جاتی ہے‘۔

احسن اقبال نے سیاسی جماعتوں میں موجود خامیوں کا ذمہ دار ان کے رہنماؤں کو نہیں بلکہ سیاسی نظام کو پٹڑی سے اتارنے والے عوامل کو قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ہی نہیں ملا اور پینتیس برس تک مارشل لاء لگا کر ریاستی اداروں کے ذریعے سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے اور توڑنے کی مکمل کوشش کی گئی ہے جس کے سبب سیاسی جماعتوں کی صحت مندانہ نشو ونما نہیں ہو سکی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے رکن سندھ اسمبلی رضا ہارون نے اس رپورٹ کی تعریف کی تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کی بابت اس رپورٹ میں کچھ حقائق درست نہیں۔

اس سیمینار کی صدارت قومی اسمبلی کے سابق سپیکر فخر امام نے کی۔ انہوں نے ڈاکٹر وسیم کے کام کو سراہا اور کہا کہ اگرچہ سیاسی جماعتیں اس تحقیق کی کچھ باتوں سے اتفاق نہیں کریں گے لیکن یہی جمہوریت کا حسن ہے۔

اس رپورٹ کو مرتب کرنے والی ٹیم نے اس امید اور خواہش کا اظہار کیا کہ اس رپورٹ کی روشنی میں پاکستان کی سیاسی جماعتیں اپنے اندر مثبت تبدیلی لائیں گی۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔