پاکستان نے تیرہ افغان طالبان رہا کر دیے

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 17:04 GMT 22:04 PST

افغان امن کونسل کے وفد نے پاکستان سے مقید طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا

افغان حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نے افغانستان میں قیام ِ امن کی کوششوں میں مدد دینے کے لیے درمیانے درجے کے تیرہ طالبان رہنماؤں کو رہا کر دیا ہے۔

رہا کیے جانے والوں میں روس کے خلاف افغان جنگ کے اہم کمانڈر مولوی یونس خالص کے بیٹے انوارالحق بھی شامل ہیں۔ انوار الحق تورہ بورہ کے طالبان کمانڈر تھے اور انہیں دو ہزار نو میں پشاور سے گرفتار کیا گیا تھا۔

طالبان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ انوار الحق کے علاوہ جن طالبان کو رہا کیا گیا ہے ان میں بغلان کے سابق گورنر ملا عبدالسلام ، ننگر ہار کے سابق گورنر میر احمد گل اور کابل کے گورنر داؤد جلالی شامل ہیں۔

افغان امن کونسل کے وفد نے ملا برادر، ملا ترابی،جہانگیر وال اور انوار الحق کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ان افراد کی رہائی پر حکومتِ پاکستان اور افغان امن کونسل کے وفد کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت میں اتفاق ہوا تھا۔

افغان امن کونسل کا وفد ان مذاکرات کے بعد واپس کابل پہنچ گیا ہے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ان طالبان رہنماؤں کی رہائی سے افغان مسئلے کے حل میں کس حد تک مدد مل سکے گی۔

کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کے اہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اب بھی پاکستانی جیلوں میں تیس سے چالیس افغان طالبان قیدی موجود ہیں اور انہیں امید ہے کہ ان کی رہائی بھی آخرِ کار عمل میں آ ہی جائے گی۔

پاکستان کی جانب سے فی الحال رہا کیے جانے والے طالبان میں ملا نورالدین ترابی اور ملا عبدالغنی برادر کا نام شامل نہیں ہے۔ یہ دونوں طالبان کمانڈر پاکستان میں قید افغان طالبان میں سے اہم ترین رہنماؤں میں شامل ہیں۔

تاہم خبر رساں ادارے رائٹرز نے پاکستان اور افغانستان کےحکام کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر ان درمیانے درجے کے طالبان رہنماؤں کی رہائی سے امن مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا ہوا تو پاکستان ملا عبد الغنی برادر کو رہا کرنے پر غور کرے گا۔

ایک افغان اہلکار نے رائٹر کو بتایا کہ پاکستانی حکام نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ اگر ان رہائیوں سے فائدہ ہوا تو پاکستان ملا برادر کی رہائی پر غور کرے گا۔

افغانستان پاکستان سے طالبان رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کافی عرصے سے کرتا رہا ہے۔

افغان حکام کا خیال ہے کہ ملا برادر طالبان کی اعلیٰ قیادت کو افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرنے پر رضامند کر سکتے ہیں۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔