’جب تک رئیسانی حکومت ہے پیچیدگیاں بڑھیں گی‘

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 13:55 GMT 18:55 PST

بلوچستان حکومت کی آئینی حیثیت متنازع

بلوچستان اسمبلی کے سیپکر محمد اسلم بھوتانی نےبی بی سی کے نامہ نگار ایوب ترین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کور ٹ کے فیصلے کے بعد بلوچستان حکومت کی آئینی حثیت متنازع ہوچکی ہے۔

دیکھئیےmp4

اس مواد کو دیکھنے/سننے کے لیے جاوا سکرپٹ آن اور تازہ ترین فلیش پلیئر نصب ہونا چاہئیے

متبادل میڈیا پلیئر چلائیں

بلوچستان اسمبلی کے سپیکر اور صوبے کے قائم مقام گورنر محمد اسلم بھوتانی نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بلوچستان حکومت کی آئینی حیثیت متنازع ہو چکی ہے کیونکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اور رئیسانی حکومت مزید ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔

بلوچستان کے حالیہ آئینی بحران پر بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں انہوں نے کہا کہ جب تک صوبے میں رئیسانی حکومت رہتی ہے یہ مسئلہ پچیدہ ہوتا جائےگا۔

انہوں نے وزیراعلیٰ سے ذاتی اختلافات کو پروپیگنڈہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان دونوں کے درمیان کوئی تنازع نہیں ہے لیکن سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ضروری ہے جو کہ ایک آئینی اور قانونی مسئلہ ہے۔

اسلم بھوتانی نے کہا کہ ایک طرف سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے تو دوسری جانب نواب اسلم رئیسانی کی حکومت ہے جبکہ سپریم کورٹ نے اپنا فیصلہ واپس نہیں لینا اس لیے اسلم رئیسانی کو سپریم کورٹ کا فیصلہ تسلیم کرنا پڑے گا بصورت دیگر دونوں چیزیں اکٹھی نہیں چل سکتیں۔

انہوں نے کہا کہ ’سپریم کورٹ کا فیصلہ وزیراعلی بلوچستان اور حکومت کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ عدالتی فیصلے میں صوبائی اسمبلی کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے البتہ اسمبلی کا اجلاس ایک ایسے شخص کے مشورے سے نہیں بلایا جا سکتا جس کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہو‘۔

صوبائی اسمبلی کا اجلاس بلانے سے انکار کی وجہ پوچھے جانے پر اسلم بھوتانی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے بارہ ستمبر کو جو عبوری حکم جاری کیا ہے اس میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ بلوچستان کی موجودہ حکومت آئینی طور پر حق حکمرانی کھو چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اس کے بعد بحیثیت سپیکر پہلے میں نے گورنر بلوچستان نواب ذوالفقار مگسی کو خط لکھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کےمطابق وزیراعلیٰ بلوچستان کی حیثیت ایک سوالیہ نشان بن چکی ہے جس کی قانونی اور آئینی وضاحت ضروری ہے بصورت دیگر اسمبلی کا اجلاس توہین عدالت کے زمرے میں آ سکتا ہے‘۔

"سپریم کورٹ کا فیصلہ وزیراعلی بلوچستان اور حکومت کے اردگرد گھوم رہا ہے۔ عدالتی فیصلے میں صوبائی اسمبلی کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا ہے البتہ اسمبلی کا اجلاس ایک ایسے شخص کے مشورے سے نہیں بلایا جا سکتا جس کی ساکھ پر سوالیہ نشان ہو۔"

اسلم بھوتانی

ان کے مطابق ’انہوں نے تیرہ نومبر کو اجلاس طلب کیا لیکن جب میں نے قائمقام گورنر کا عہدہ سنبھالا تو اسمبلی کی جانب سے بھیجا گیا خط مجھے پیش کیا گیا تومیں نے یہ لازمی سمجھا کہ تیرہ نومبر کا اجلاس ملتوی کرکے سپریم کورٹ سے اس مسئلے پرمعلومات حاصل کر لوں‘۔

قائمقام سپیکرمطیع اللہ آغا کی جانب سے تیرہ نومبر کو اسمبلی کا اجلاس بلا نے کے متعلق ایک سوال کے جواب میں اسلم بھوتانی نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اجلاس بلانے کے لیےگورنر سے درخواست کی جاتی ہے جبکہ سپیکر صرف ارکان اسمبلی کی درخواست پر اجلاس طلب کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اجلاس طلب کرنے کے لیے سترہ ارکان کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ بلوچستان اسمبلی میں صرف آٹھ ایم پی ایز ایسے ہیں جو اجلاس بلانے کی درخواست دینے کے اہل ہیں اور باقی چونکہ وزراء ہیں اور ان کے حکومت کا حصہ ہونے کی وجہ سے ان کی درخواست پر سپیکر اجلاس طلب نہیں کر سکتا۔

حکومت کی جانب سے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کی کوششوں کے بارے میں اسلم بھوتانی نے کہا کہ ’سپیکرشپ ارکان اسمبلی کی امانت ہے اگر وہ مجھ سے ناخوش ہیں تویہ ان کا آئینی حق ہے۔جب چاہے مجھ کو اس عہدے سے ہٹا سکتے ہیں اس میں تو کوئی دو رائے ہوہی نہیں سکتی لیکن جب تک اس عہدے پر ہوں اس وقت تک آئینی اور قانونی ذمہ داریاں بلا خوف و خطر پورا کرتا رہوں گا‘۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔