سزائے موت کا قانون، حکومت کی متزلزل پالیسی

آخری وقت اشاعت:  جمعرات 15 نومبر 2012 ,‭ 14:35 GMT 19:35 PST

محمد حسین کو دی گئی پھانسی گذشتہ چار سال میں کسی پاکستانی کو دی جانے والی پہلی سزائے موت ہے۔

میانوالی کی جیل میں سابق فوجی محمد حسین کی پھانسی سے جہاں ملک میں سزائے موت پر عائد خاموش پابندی کا چار سالہ تسلسل ٹوٹ گیا، وہیں یہ بحث ایک مرتبہ پھر زور پکڑگئی ہے کہ آخر پیپلز پارٹی کی حکومت کا اس معاملے پر موقف ہے کیا؟

اگر وہ واقعی اس کے خلاف ہے تو اس نے اپنے ساڑھے چار سالہ دور حکومت میں اسے ختم کرنے کے لیے قانون سازی کیوں نہیں کی؟

محمد حسین کو سزا تو فوجی قوانین کے تحت اپنے افسر کو قتل کرنے پر ملی اور اس کے لیے تاریخ بھی سرگودھا کے کور کمانڈر نے طے کی، لیکن اس سزا پر عمل درآمد صدر کو کی گئی رحم کی اپیل کے مسترد ہونے پر ہی ممکن ہو سکا۔

پاکستان میں سزائے موت کے قانون کی سب سے زیادہ مخالفت انسانی حقوق کی تنظیمیں کرتی رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محمد حسین کی پھانسی پر پاکستان کے انسانی حقوق کمیشن ایچ آر سی پی نے تشویش اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔

ایچ آر سی پی کی طرف سی جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ’گزشتہ چار برس کے دوران سزائے موت کے متعدد قیدیوں کو پھانسی دینے کی تاریخوں کا اجرا کیا جاتا رہا لیکن عمل درآمد سے قبل ملتوی کردیاگیا۔ ہمیں نہیں معلوم کہ اس دفعہ پھانسی غفلت کا نتیجہ ہے یا اس کی وجہ یہ ہے کہ سزا فوجی عدالت کی طرف سے سنائی گئی تھی۔‘

صرف پاکستان ہی نہیں ایشین ہیومن رائٹس کمیشن نے بھی اس بارے میں خصوصی بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ’اقوام متحدہ میں پاکستانی وزیرِ خارجہ کے اس بیان کے بعد کہ ان کے ملک میں سزائے موت پر غیر رسمی پابندی ہے، پاکستان میں ایک شخص کی پھانسی سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ حکومت فوج کے دباؤ میں ہے اور سزائے موت کے خاتمے کے لیے بین الاقوامی برداری سے اپنے وعدے وفا نہیں کر رہی۔’

کمیشن فار پیس اینڈ جسٹس کے سربراہ پیٹر جیکب کہتے ہیں’حکومت اس معاملے پر بے یقینی کی کیفیت کا شکار ہے اور وہ یہ طے نہیں کر پائی کہ اس نے اصل میں کیا کرنا ہے۔ ملک اور پارلیمنٹ میں کوئی بحث نہیں ہوئی اور ایک غیر رسمی پابندی جاری تھی لیکن محمد حسین کی پھانسی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ متعلقہ محکمے اور حکومت کیا رائے رکھتے ہیں۔ یا تو اس میں تضاد ہے یا پھر اس کا فیصلہ نہیں ہوا ’

"مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر بات کو مذہب سے منسلک کردیا جاتا ہے ۔۔۔ اسی لیے پیپلز پارٹی چاہتے ہوئے بھی سزائے موت کے خاتمے کے لیے قانون سازی نہیں کروا سکی۔"

رکنِ پنجاب اسمبلی ایڈوکیٹ عظمیٰ بخاری

پیپلز پارٹی کے رہنما اور ممتاز قانون دان بیرسٹر اعتزار احسن کا کہنا ہے کہ ’پیپلز پارٹی بنیادی طور پر سزائے موت کے خلاف ہے کیونکہ ذوالفقار علی بھٹو کو بھی پھانسی کے ذریعے راستے سے ہٹایا گیا۔ ویسے بھی پھانسی ایک حتمی اقدام ہے جس میں اگر عدالت سے انسانی حوالے سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس کا ازالہ ممکن نہیں۔ اگر اس سزا کو ختم کرنے کے لیے قانون سازی ہوجاتی تو بہت مناسب تھا اور اگر چار سال تک کسی کو پھانسی نہیں ہوئی تو یہ بھی مناسب ہے۔ تاہم فوج جنگ میں مصروف ہے اس کے مورال کو درست رکھنے کے لیے ایک سزا پر عمل درآمد کیا گیا تو وہ بھی نامناسب نہیں۔‘

پیپلز پارٹی کی ہی رکنِ پنجاب اسمبلی ایڈوکیٹ عظمیٰ بخاری کہتی ہیں کہ چار سال تک سزائے موت پر پابندی رکھنے پر پیپلز پارٹی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور الزام لگایا گیا کہ وہ مغرب کا ایجنڈا لے کر چل رہی ہے۔ ہم نے کئی قوانین میں تبدیلیاں کیں لیکن یہ ایک حساس معاملہ ہے۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے ہاں ہر بات کو مذہب سے منسلک کردیا جاتا ہے۔ اور سیاست دان ہر مسئلے پر مصلحت کا شکار ہیں۔ اسی لیے پیپلز پارٹی چاہتے ہوئے بھی سزائے موت کے خاتمے کے لیے قانون سازی نہیں کروا سکی۔‘

سپریم کورٹ کے ایڈوکیٹ آفتاب باجوہ کے مطابق ’سزائے موت پر عمل درآمد میں فوجی اور سویلین کی تفریق بھی آئین کی شق پچیس کی خلاف ورزی ہے۔ لیکن ہمارے آئین میں لکھ دیا گیا ہے کہ ایسا کوئی بھی قانون جو قرآن و سنت کے منافی ہو وہ آئین سے متصادم ہوگا۔ اور جب قرآن و سنت میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ جان کے بدلے جان تو حکومت کو سزائے موت کے خاتمے کے لیے قانون سازی سے پہلے علما کا اتفاق اور حمایت حاصل کرنا ہوگی۔‘

حال ہی میں اقوام متحدہ میں پاکستان کے انسانی حقوق سے متعلق جائزے کے موقعے پر بھی دنیا کے کئی ملکوں کی جانب سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ پاکستان سزائے موت کے قانون کا خاتمہ کرے۔

اس وقت حکومت اور بہت سے معاملات کی طرح اس معاملے پر بھی گومگو کی کفیت میں ہے، اور بظاہر لگتا یہی ہے کہ وہ اس معاملے پر کوئی واضح پوزیشن اختیار کرنے کے بجائے متزلزل پالیسی جاری رکھتے ہوئے چند ماہ بعد چلتی بنے گی اور پھر یہ معاملہ اگلی حکومت پر جا پڑے گا۔

اسی بارے میں

متعلقہ عنوانات

BBC © 2014 بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے

اس صفحہ کو بہتیرن طور پر دیکھنے کے لیے ایک نئے، اپ ٹو ڈیٹ براؤزر کا استعمال کیجیے جس میں سی ایس ایس یعنی سٹائل شیٹس کی سہولت موجود ہو۔ ویسے تو آپ اس صحفہ کو اپنے پرانے براؤزر میں بھی دیکھ سکتے ہیں مگر آپ گرافِکس کا پورا لطف نہیں اٹھا پائیں گے۔ اگر ممکن ہو تو، برائے مہربانی اپنے براؤزر کو اپ گریڈ کرنے یا سی ایس ایس استعمال کرنے کے بارے میں غور کریں۔